خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 273 of 586

خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 273

خطبات ناصر جلد سوم ۲۷۳ خطبه جمعه ۱۴ /اگست ۱۹۷۰ء ہوں اس لئے میں صرف میٹھا کھایا کروں گا اور مجھے ذیا بیطس نہیں ہوگی۔جو صرف میٹھا ہی کھائے گا وہ بنیوں کی طرح موٹا بھی ہو جائے گا اور اسے بہت ساری بیماریاں بھی لگ جائیں گی۔کوئی شخص یہ نہیں کہ سکتا کہ چونکہ میں آزاد ہوں اس لئے میں صرف گوشت کھایا کروں گا۔اوّل تو اگر وہ شیر کی طرح خالی گوشت کھانا شروع کر دے تو اس کے جسم میں سے بد بو آنی شروع ہو جائے گی دوسرے اس کا جسم ، اسکے اخلاق پھر اس کی روحانیت اور ذہن جو ہے وہ متوازن ارتقاء نہیں کر سکے گا۔اگر کسی بچے کو بچپن سے سوائے گوشت کے کچھ نہ دیا جائے تو وہ انسانی معاشرہ کا ایک نارمل فرد نہیں بن سکے گا کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑا ہے۔پس ہر جگہ تو ہم آزاد نہیں البتہ ایک چھوٹے سے دائرے میں آزاد ہیں ہم اس بات میں آزاد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت اور شریعت نازل کی ہے اگر چاہیں تو اس کے آگے اپنی گردنیں رکھیں اور اگر چاہیں تو شیطان کے بچے بن جائیں مگر یہ وارننگ دے دی کہ اگر تم میری بات مانو گے تو میری رضا کی جنتوں میں اپنا ٹھکانا بناؤ گے اور اگر تم میری بات نہیں مانو گے شیطان کی گود میں بیٹھنا چاہو گے تو اس دنیا میں تو ممکن ہے ظاہری طور پر تمہیں اس کا کوئی فائدہ پہنچ جائے دنیا لیکن ابدی طور پر پھر تمہیں جہنم کی آگ کے اندر شیطان کی گود میں بیٹھنا پڑے گا کیونکہ وہاں تمہیں بٹھا دیا جائے گا اور بچوں کو کہا جائے گا کہ آؤ اس کے گرد کھیلتے رہو۔غرض یہ آزادی دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی منشاء سے دی ہے اس دنیا میں کوئی چیز اس کی منشاء اور اجازت کے بغیر ٹھہر ہی نہیں سکتی۔اب ہمارے مشرقی پاکستان میں طوفان آئے ہیں حالات پڑھ کر دل بڑا دکھتا ہے ہمارے بھائی تکلیف میں ہیں ہمیں بھی تکلیف ہو رہی ہے۔جماعت احمدیہ پر ان لوگوں کی مدد کرنے کا ایک ایسا فرض عاید ہوتا ہے جس کی طرف دوسروں کو خیال ہی نہیں اور وہ ہے ان کے لئے دعا ئیں کرنا۔دوسرے لوگ تو دعا پر کامل ایمان ہی نہیں رکھتے قرآن کریم ایک ایسے خدا کو ہمارے سامنے پیش کرتا ہے جس نے اپنی ایک صفت یہ بتائی ہے کہ وہ دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور وہ تقدیر معلق کو بدل بھی دیتا ہے اور ایسی تقدیر جو مبرم سے ملتی جلتی ہو اور یہ ساری نسبتیں دراصل انسان کے