خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 272
خطبات ناصر جلد سوم ۲۷۲ خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء سے ہمارا چھٹکارا نہیں ہے اگر ہم معرفت رکھتے ہوں اور کچھ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا قانونِ قدرت ایسا بنادیا ہے مگر کہیں کہیں ہمیں یہ بھی نظر آتا ہے کہ قانونِ قدرت کچھ بنا یا تھا اور اپنے قانونِ قدرت کو قانون خاص سے بدل دیا اس پر بھی اللہ تعالیٰ قادر ہے یعنی خود اپنے قانون کے اندر بندھا ہوا نہیں ہے وہ متصرف بالا رادہ ہستی ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے موٹر کے اس کارخانے کی طرح نہیں ہے کہ جس موٹر کو وہ پٹرول پر چلنے کے لئے بنائے وہ ڈیزل سے نہیں چل سکتی اور جس کو ڈیزل پر بنایا ہے وہ پٹرول سے نہیں چل سکتی غرض ہر حرکت ، ہر سکون ، ہر تبدیلی ہر انقلاب چھوٹا یا بڑا اس کے بالا رادہ تصرف کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اس خدا کو قرآن کریم ہمارے سامنے پیش کرتا ہے جو تمام صفاتِ حسنہ سے متصف اور کوئی عیب یا کمزوری یا لاعلمی اس کی طرف منسوب نہیں ہوسکتی۔دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی منشاء کے بغیر ہو مثلاً یہ اس کا منشاء تھا کہ وہ انسان کو آزادی دے۔بعض احمق یہ اعتراض کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود گناہ کروانا چاہا گندگی پھیلانی چاہی (معاذ اللہ ) یعنی اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اجازت دے دی کہ اگر تم چاہو تو نیکیوں کی طرف آجاؤ محبت کو دوسری مخلوق سے زیادہ حاصل کرو چاہو تو تم گند میں پھنس جاؤ اور اس کے قہر اور غضب کو دوسروں سے زیادہ حاصل کرو پس اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر یہ بھی نہیں ہو سکتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک منصوبہ بنایا اور ایک ایسی مخلوق پیدا کرنی چاہی جس کی جان اور روح اور مرکزی نقطہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی اور اس انسان کو پیدا کیا جس کو ایک محدود ما حول کے اندر آزادی دی۔محدود ماحول کے اندر آزادی کا یہ مطلب ہے کہ ہمارے پھیپھڑوں کو یہ آزادی نہیں ہے کہ وہ ہوا کی بجائے پانی سے آکسیجن لے لیں۔ہمارا جسم ہی کچھ ایسا بنا ہوا ہے اب تو ڈاکٹروں نے ہزار قسم کے مٹیبلزم بنالئے ہیں کوئی میٹھے کا کوئی ہوا کا یہ سارے مٹیبلزم چل رہے ہیں اس عالمین کا یہ سلسلہ ایک کارخانہ کی طرح چل رہا ہے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ متوازن غذا کھاؤ تو صحت مند رہو گے۔وَضَعَ الْمِيزَانَ “ کی رو سے اس نے اس دنیا کی ہر چیز میں ایک توازن قائم کر دیا ہے۔انسان کے جسم کے لئے بھی اس کی غذا کے لئے بھی تو ازن قائم کیا ہے اس میں اسے کوئی آزادی نہیں ہے کوئی شخص یہ نہیں کہ سکتا کہ چونکہ میں آزاد مخلوق کا ایک فرد 66