خطباتِ ناصر (جلد3 ۔ 1970ء، 1971ء) — Page 274
خطبات ناصر جلد سوم ۲۷۴ خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۷۰ء فیصلہ پر منحصر ہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے تو ہر چیز واضح ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔امَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ - (النمل: ٦٣ ) یعنی اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ ہے کہ جب انسان تضرع اور ابتہال کے ساتھ اس کے حضور جھکتا اور اپنے یا اپنوں کی تکلیفیں دور ہونے کے لئے دعائیں مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ نے ساری دنیا میں اس بات کا اعلان کیا اور ہم نے ساری دنیا میں اس کی مثالیں پیش کیں (ہم نے کیا کرنی تھیں ہم تو عاجز انسان ہیں ) اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذریعہ احمدیت کے ذریعہ ان اقوام کے سامنے اس بات کا کہ آمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ - کے مطابق یہ معجزہ بھی دکھایا کہ سات سات ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ دور سے دعاؤں کے خط آتے ہیں لوگ تکلیف میں ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے نہ کسی بندے کی خوبی کے نتیجہ میں دعا کو قبول فرماتا اور ان کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے اس لئے نہیں دور کرتا کہ ناصر یا زید میں کوئی خوبی تھی اور اس کا اظہار کرنا چاہتا تھا بلکہ وہ دعا کے ذریعہ اس لئے تکلیف کو دور کرتا ہے کہ اس نے قرآن کریم میں یہ اعلان فرمایا ہے۔امَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَ اِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ - اپنے اس قول کو اس نے ڈی مان سٹریٹ کرنا تھا اس کی مثالیں قائم کرنی تھیں۔ہمارے مشرقی افریقہ میں ایک سکھ بیماری کی وجہ سے سخت تکلیف میں تھا احمدیوں سے اس کی واقفیت تھی ہمارے مبلغ نے اسے کہا کہ حضرت صاحب کو دعا کے لئے خط لکھا کر وخیر اس نے دعا کے لئے مجھے لکھنا شروع کیا۔۶،۵ مہینوں کے بعد مجھے اس کا خط ملا جس میں اس نے لکھا کہ اب مجھے بالکل آرام ہے اس لئے آپ بے شک میرے خط کا جواب بھی نہ دیں اس کو خیال آیا کہ ان کے پیسے خرچ ہو رہے ہیں میں نے کہا کہ تم اصل چیز کو تو سمجھے ہی نہیں تم نے ابھی تک اس خدا کو پہچانا ہی نہیں جسے ہم پہچانتے ہیں اور جو خدا کو پہچانتا ہے اس کے ساتھ اپنے تعلق کو زندہ اور قائم رکھنا نہیں چاہتے کل کو پھر مصیبت پڑے گی تو پھر آؤ گے اس واسطے میں اسے جواب ضرور بھجواتا رہا