خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 909
خطبات ناصر جلد دوم ۹۰۹ خطبہ جمعہ ٫۳اکتوبر ۱۹۶۹ء تنخواہ کا نصف اس کی پنشن مقرر ہوگی یا مثلاً میں سالہ سروس ہے تو شاید تنخواہ کا ۱/۳ حصہ بطور پینشن کے ملتا ہے۔یہ سارے اصول بنے ہوئے ہیں لیکن ان اصولوں کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے اس اصول پر ہونی چاہیے جس کا جلوہ اس نے دکھایا ہے کہ جب بھی جزا یا بدلہ دینے کا سوال پیدا ہو میری صفات کے اس جلوہ پر عمل کرتے ہوئے بہترین جزا یا بدلہ کے طور پر مجموعی اجرت یا مجموعی نفع حصہ رسدی دینے کی کوشش کی جائے۔اس دنیا میں بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جن کی شادی بڑی عمر میں ہوئی یا جن کے اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت بعض بڑے بچے فوت ہو گئے اور جس وقت وہ اپنی پنشن کی عمر کو پہنچے تو ان کی ساری اولا د تعلیم حاصل کر رہی تھی۔اللہ تعالیٰ نے ان کی اولا دکو اچھا ذہن بھی عطا کر رکھا تھا۔پس اجرت کے لحاظ سے یہ رحیمیت کے جلوے ہیں رحمانیت کے جلوؤں کا علیحدہ اصول ہے رحیمیت کے جلوؤں میں یعنی جو اس نے کام کیا ہے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس دنیا میں اتنا تنوع پایا جاتا ہے کہ ایک ہی لاٹھی سے سب کو نہیں ہانکا جا سکتا۔پس ایسے پنشن پانے والے جن پر ان کے حالات کے مطابق بوجھ ویسا ہی ہے کم نہیں ہوا۔کوئی بیٹا کما نہیں رہا بچیوں کی شادی نہیں ہوئی ان کو پینشن پوری تنخواہ کے برا برملنی چاہیے سوائے اس کے کہ انسان اپنی سہولت کے لئے رحیمیت کے ان جلوؤں کو رحمانیت کی صفت کے جلوؤں کے اندر لے آئے اور اس کی ضرورت کو دوسری طرح پوری کر دے یہ تو ٹھیک ہے اس صورت میں اس کی پنشن نصف رہے یا ایک تہائی یا چوتھائی رہے اگر اور صفتِ باری کے جلوؤں کی مظہریت میں اس کے سارے حقوق اس کو مل جاتے ہیں تو فبہا ، اس کے سارے حقوق اس کو مل گئے لیکن اگر رحمانیت کے جلوؤں کی مظہریت میں یا ان کے مظہر بننے کی جد و جہد میں اس کے وہ حقوق نہیں ملے تو سمجھ لینا چاہیے کہ رحیمیت کے جلوے ان کی حفاظت کر رہے ہیں اگر رحیمیت کے جلوؤں سے اس کے بعض حقوق کو نکالنا ہے تو پھر ضروری ہے کہ انسان رحمانیت کے جلوؤں میں اس کو لے آئے کہ قطع نظر اس کے کہ کسی کی کارکردگی کیا تھی اللہ تعالیٰ نے جو اس کے حقوق قائم کئے ہیں وہ انہیں ادا کرنے کی کوشش کرے۔بہر حال ہر ایک آدمی کے حقوق ادا ہونے چاہئیں اور اس کو آخری عمر