خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 908
خطبات ناصر جلد دوم ۹۰۸ خطبه جمعه ٫۳اکتوبر ۱۹۶۹ء اللہ تعالیٰ نے یہاں بہترین عمل کی بہترین جزا سے متعلق جو حکم دیا ہے اس پر ہمیں بھی غور کرنا چاہیے ہمارے صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید میں ایسا نہیں ہوتا۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہمارے کارکنان اللہ تعالیٰ کے فضل سے خواہ ہم ان کو واقف کہیں یا نہ کہیں بہر حال وہ ایک طرح کے واقف زندگی ہی ہیں کیونکہ وہ قربانیاں دیتے ہیں اپنے حقوق کو چھوڑتے ہیں ( قربانی کا آخر یہی مطلب ہے نا کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنے حقوق کو چھوڑ دیتا ہے ) پس اگر اس طرف پہلے توجہ نہیں ہوئی تو اب اگر یہ ممکن ہو ہماری اتنی آمدنی ہو کہ ہم بیماری کی رخصتوں میں اپنے کارکنان کو پوری تنخواہ (جو کہ پہلے ہی کم ہے ) دے سکیں تو ان کو ضرور دینی چاہیے۔ویسے ہمارے سارے کارکنان خوشی سے قربانی دے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کسی دوسرے رنگ میں ان کی اس قربانی کی انشاء اللہ بہترین جزا عطا فرمائے گا لیکن اقتصادی دنیا کے لئے اس آیت کی رُو سے اللہ تعالیٰ نے یہ قانون وضع کیا ہے اور اپنے اس جلوہ کا اظہار فرمایا ہے کہ میں جو سب سے اچھا عمل ہو اس کے مطابق جزا دیا کرتا ہوں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اگر انسان اس کی صفات کا مظہر بنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ وہ اپنے ماتحت کے سب سے اچھے عمل اور اس کی سب سے اچھی کارکردگی کے مطابق اسے اُجرت یا مزدوری دیا کریں اور اسی اصول کے مطابق پنشن مقرر ہونی چاہیے۔ویسے روحانی لحاظ سے انسان کی پنشن اس کی موت کے بعد کی نئی زندگی سے شروع ہوتی ہے۔موت حقیقیہ اس زندگی کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی زندگی کی ابتدا ہے اور یہیں سے روحانی طور پر پنشن کا آغاز ہوتا ہے اور اس دوسری زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کا یہی اصول ہے کہ بہترین عمل کے مطابق جزا ملے گی لیکن اس دنیا کے حقوق کو اللہ تعالیٰ نے اس بنیادی اصول پر قائم کیا ہے کہ اس شخص یا اس کے خاندان کی قابلیتوں کے مجموعہ کی نشوونما کے کمال کے لئے جس چیز کی اسے ضرورت ہے وہ اسے ضرور ملنی چاہیے۔اس دنیا میں انسان جس وقت پنشن کی عمر کو پہنچتا ہے تو اس وقت عام طور پر اس کے خاندان کے بہت سے افراد خود کمانے کے قابل ہو جاتے ہیں اور اس کے پندرہ بیس سال پہلے کے حقوق نہیں رہتے بلکہ کم ہو جاتے ہیں۔ان حقوق کو مدنظر رکھ کر اگر کم پنشن بنتی ہو تو پھر ٹھیک ہے۔اس کی