خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 910
خطبات ناصر جلد دوم ۹۱۰ خطبه جمعه ۳/اکتوبر ۱۹۶۹ء میں ہرقسم کی پریشانیوں سے محفوظ رکھنا چاہیے۔یہ تو تھا اس جزا سے تعلق رکھنے والا مضمون جو کار کردگی کے نتیجہ میں ایسی کارکردگی ، ایسی ذمہ داری، ایسی محنت جو بڑی نمایاں ہے اور جس کے مطابق دنیا مزدوریاں دیا کرتی ہے اس کے ساتھ تعلق رکھتا تھا۔بعض جزا اور آجر یا بدلے ایسے نہیں ہوتے جوان ظاہری پیمانوں پر پورے اُتریں۔چنانچہ جب منصوبہ بندی ہوتی ہے Private sector ( پرائیویٹ سیکٹر ) میں یعنی جہاں مختلف سرمایہ داروں نے روپیہ لگانا ہو بغیر کسی ایسے اصول کے جن کا اللہ تعالیٰ مطالبہ کرتا ہو مختلف لوگوں کو مختلف قسم کے کارخانے لگانے کی اجازت دے دی جاتی ہے یا ایسی شرائط عائد کی جاتی ہیں جن کا تعلق اس کے حق سے نہیں بنتا وہ حق جو اللہ تعالیٰ نے معین اور قائم فرمایا ہے مثلاً ایسے اشخاص جو کارخانہ کھولنے کے متمنی ہوتے ہیں ان سے کہہ دیا جاتا ہے کہ Bank Balance (بینک بیلنس) دکھاؤ یا دوستیاں ہیں یا سفارشیں ہیں وغیرہ وغیرہ ہزار قسم کی نالائقیاں اس اقتصادی دنیا میں چل رہی ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں بھی اپنی بعض صفات کے جلوؤں کا ذکر قرآن کریم میں فرمایا ہے مثلاً آج یا کل کے اخبار میں تھا کہ شکر کے کچھ اور کارخانے لگانے کی ضرورت ہے۔اسی طرح کپڑا بنانے کے کچھ اور کار خانے لگوانے کی بھی ضرورت ہے۔اب یہ کارخانے لگانے کی کسی نہ کسی پارٹی کو اجازت دی جائے گی۔ان سے کہا جائے گا کہ ہم سہولتیں دیتے ہیں تم یہ کارخانے قائم کرو۔یہ بھی دراصل ایک قسم کی جزا یا بدلہ ہے جو ان کو دیا گیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس قسم کی اجازت کو بھی جزا یا بدلہ قرار دیا ہے لیکن کس چیز کی جزا ؟ کیا اس چیز کی جزا کہ خونی رشتہ تھا؟ کیا اس چیز کی جزا کہ مخلصانہ دوستی تھی؟ کیا اس چیز کا بدلہ کہ یہ پہلے ہی بڑا سرمایہ دار تھا؟ اللہ تعالیٰ ان چیزوں کو قبول نہیں کرتا اور نہ ان کو جائز وجہ قرار دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَكَذَلِكَ الْيَوْمَ تُنسى - وَكَذَلِكَ نَجْزِى مَنْ اَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنُ بِأَيْتِ رَبِّهِ - (طه: ۱۲۸،۱۲۷) فرمایا جو شخص یا گروہ یا جماعت یا Management (انتظامیہ ) اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر عمل نہیں کرتی اور اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے احکام کو بھلا دیتی ہے وہ رحمت کی تقسیم کے وقت بھی بھلا دی جاتی ہے اور جو جو خدائی ہدایت اور شریعت سے باہر نکل جاتا ہے اور اسراف کرتا ہے