خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 898
خطبات ناصر جلد دوم ۸۹۸ خطبہ جمعہ ۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء فیصلہ کرتا ہے تو وہ حق و حکمت کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔اس لئے اس نے فرمایا اے میرے بندو! جب تم یہ فیصلہ کرو کہ اقتصادی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کس قسم کے منصوبے تیار ہونے چاہئیں تو حق کو مد نظر رکھو۔”حق“ کے لفظ کو عربی زبان موافقت اور مطابقت کے معنے میں استعمال کرتی ہے لیکن میں چونکہ اقتصادیات کا ذکر کر رہا ہوں اس لئے اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ حقوق کے مطابق تمہارے فیصلے ہونے چاہئیں۔اس کے معنے یہی ہیں کہ وہ فیصلے حکمت کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہوں۔یہ بات بھی حقوق کے اندر ہی آجاتی ہے مثلاً حکیمانہ فیصلہ یہ ہو گا کہ ہر عمر کے لحاظ سے جس قسم کی غذا ہماری رعایا کو چاہیے وہ غذا اس عمر کے گروپ کے لئے مہیا کی جائے اور منصوبہ اس کے مطابق بنایا جائے مثلاً دودھ ہے۔اٹھارہ سال کی عمر تک دودھ بڑا ضروری ہے۔بڑی دیر کی بات ہے میں جب انگلستان میں پڑھا کرتا تھا اس وقت بھی انگریز قوم کو اس طرف توجہ تھی اور لوگ بڑا اچھا خالص دودھ موٹروں ( وینز - Vans میں جو سامان اٹھانے کے لئے ہوتی ہیں) میں لا دے چھوٹے چھوٹے دیہات اور قصبوں میں بھی پھرتے رہتے تھے۔بعض دفعہ بعض بچوں کو میں نے اس نیت سے اپنے ہاتھ سے دودھ پلایا کہ مجھے ان کے اخلاق اور عادات کے متعلق علم حاصل کرنا ہوتا تھا اور میں چاہتا تھا کہ وہ میرے ساتھ بے تکلف ہو جائیں۔اسی طرح سکولوں وغیرہ میں بھی خالص دودھ مہیا کیا جاتا تھا۔یہ تو ایک مثال ہے۔اصول یہ ہے کہ ہر عمر کے لحاظ سے مختلف قسم کی غذاؤں کی ضرورت ہوتی ہے اور حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ جس قسم کی غذا کی کسی عمر کے بچے کو ضرورت ہے وہ غذا اسے ملنی چاہیے۔پھر ایک ہی عمر میں بچے کانسٹی ٹیوشنلی (Constitutionally) یعنی بناوٹ کے لحاظ سے مختلف ہوتے ہیں اور بناوٹ کا یہ اختلاف، اختلاف غذا کا تقاضا کرتا ہے۔ایک بچہ ایسا ہے جس کا جسم زیادہ دودھ مانگ رہا ہے۔ایک بچہ ایسا ہے جس کا جسم زیادہ پروٹینز (Proteins) مانگ رہا ہے۔ایک بچہ ایسا ہے جس کا جسم زیادہ سٹارچ (Starch ) مانگ رہا ہے۔ایک بچہ ایسا ہے جس کا جسم زیادہ فیٹ (Fat) یعنی چکنائی اور مکھن وغیرہ مانگ رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارے فیصلے حکمت کے تقاضوں کو پورا کرنے والے ہوں۔میں تفصیل سے بیان کر چکا