خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 899 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 899

خطبات ناصر جلد دوم ۸۹۹ خطبہ جمعہ ۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء ہوں کہ رب العلمین نے جو قو تیں عطا کی ہیں ان کی کامل نشو و نما ہونی چاہیے اور اس کامل نشود نما کے لئے ایک بچہ کا جسم ہمیں کچھ کہ رہا ہے اور دوسرے بچہ کا جسم ہم سے کچھ اور مطالبہ کر رہا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارے فیصلے حکمت کے ماتحت ہونے چاہئیں اور جس قسم کی پکار کسی کی قوت اور استعداد کی ہے اس پکار کو سننا تمہارا فرض ہے اور اس کی ضرورت کو پورا کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔پھر اس میں یہ بھی آجاتا ہے کہ فیصلہ کرتے وقت ساری رعایا کا خیال رکھنا چاہیے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے، ساری رعایا سے مراد میری اس کی مجموعی حیثیت نہیں ، بلکہ اس کے گروپ بنائے جائیں، کیونکہ کسی گروپ کا زبانِ حال سے اقتصادی لحاظ سے کچھ مطالبہ ہے اور کسی کا کچھ مطالبہ، اور یہ سارے مطالبے پورے ہونے چاہئیں کیونکہ اگر ہم یہ مطالبے پورے نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کی عطا کی نشو ونما اپنے کمال تک نہیں پہنچ سکتی اور مقصد یہ ہے کہ انسان اپنے نشوونما میں اپنے کمال تک پہنچے اور یہی مقصود ہے اسلام کی اقتصادی تعلیم کا اور اس کے لئے ساری تفصیل اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتائی ہے۔”حق“ کے معنے بہت وسیع ہیں اور یہ آیت جو میں نے ابھی پڑھی ہے انسان کے ہر شعبۂ زندگی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے، لیکن میں اس وقت اقتصادیات کے متعلق بات کر رہا ہوں اور بار بار اس بات کو اس لئے دہراتا ہوں تاکسی کے دماغ میں خلط یا اشتباہ پیدا نہ ہو۔بہر حال حق کے معنی کے اندر یہ آتا ہے کہ اقتصادی حقوق کی ادائیگی کے لئے کس چیز کو مد نظر رکھا جائے یعنی جن اندازوں کے مطابق کوئی چیز چاہیے ان کے لحاظ سے وہ چیز پیدا کرنے کی کوشش کی جائے اور جس وقت اس چیز کی ضرورت ہو اس کو فورسی (Foresee) کرناحق کا تقاضا ہے۔مثلاً پہلے یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ اگلے دس سال کے بعد پاکستان کی آبادی اتنی ہو جائے گی اور پھر اس آبادی کو مد نظر رکھ کر اس وقت کے لئے منصوبہ تیار کرنا يَقْضِی بِالْحَقِّ کے اندر آ جاتا ہے۔حق کے لغوی معنی کے اندر یہ بات پائی جاتی ہے کہ وقت اور اندازہ کا خیال رکھا جائے یعنی یہ بات اس کے معنی کے اندر پائی جاتی ہے کہ ایسے وقت میں وہ چیز حاصل ہو ، جب اس کی ضرورت لاحق ہو۔کئی ایسی چیزیں