خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 777 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 777

خطبات ناصر جلد دوم LLL خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء کھڑی ہوتی اور ناکام ہوتی ہیں اس کی پھر آگے مثالیں دے کر ہمیں سمجھایا ہے اور ہماری عقل اور ہمارے جذبات کو اپیل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ دیکھو! جس کی تدبیر ہماری تدبیر کے قدم بقدم چلے گی وہ تو کامیاب ہوگا اور جس کی تدبیر ہماری تدبیر کے پہلو بہ پہلو نہیں چلے گی وہ کامیاب نہیں ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے میرے مسلمان بندے! اقتصادی دنیا میں تیری ہر تد بیر اللہ تعالیٰ کی زمین و آسمان پر حاوی اقتصادی تدابیر کے مطابق اور ہمرنگ ہونی چاہیے۔انسان کی جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں جو تدابیر جاری کر رکھی ہیں یعنی اقتصادی نظام قائم کر رکھا ہے ( یہ مسئلہ چونکہ بنیادی اور بڑا اہم ہے اس لئے میں اس کو بار بار دہرا رہا ہوں ) اس کو رب العلمین کے چھوٹے سے فقرہ میں بیان کر دیا ہے۔کیونکہ رب العلمین کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ، ان کے اندر مختلف طاقتیں اور قوتیں ودیعت کیں۔ان طاقتوں اور قوتوں کی کما حقہ ، نشوونما کا خود متکفل بنا اور اگر کسی شخص کو وہ سامان میتر نہیں آتے یا اس کا حق اسے نہیں ملتا ( اب ہم انسان کی دنیا میں آجاتے ہیں ) تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ظالم ہے جو اس کا حق چھین رہا ہے انسانی ضرورت کی ہر چیز کو حق قرار دیا ہے اور اس ضرورت کے اظہار کو درخواست کرنے یا بھیک منگا بننے کی کیفیت سے دو چار نہیں ہونے دیا بلکہ فرمایا ہے درخواست کرنے کی کیا ضرورت ہے بھیک مانگنے کی نوبت کیوں آئے تمہاری ہر ضرورت تو تمہارا اپنا حق ہے جسے تم اپنی طاقت اور استعداد کے مطابق اس کی نشوونما کے لئے حاصل کر سکتے ہو البتہ ہر اس چیز کو رڈ کر دیا ہے جو انسانی طاقت اور استعداد کی نشوونما کے لئے ضروری نہ تھی مثلاً ایک کمزور ذہن کا بچہ جو ۲۸۰ نمبر لے کر میٹرک پاس کرتا ہے اگر وہ یہ کہے کہ میرا یہ حق بنتا ہے کہ مجھے کالج میں پڑھوایا جائے تو اس کو ایک مسلمان یہ کہے گا کہ دیکھو تم نے یہ ثابت نہیں کیا کہ آگے کالج میں پڑھنا تمہاراحق بنتا ہے کیونکہ اگر تو نے واقعی محنت کی ہے ( عام طور پر بچے اس بات سے انکار کر دیتے ہیں کہ انہوں نے وقت ضائع کیا) اور اللہ تعالیٰ نے تجھے اتنی ہی قابلیت دی تھی کہ تو دسویں جماعت میں مرمر کے پاس ہوتا۔سو تو پاس ہو گیا تو اپنے کمال کو پہنچ چکا ہے۔تیرا ذ ہن آگے ترقی نہیں کر سکتا اب تیری مزید پڑھائی پر پیسہ خرچ کرنا دراصل پیسہ ضائع کرنے