خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 778
خطبات ناصر جلد دوم کے مترادف ہے۔227 خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء پس اللہ تعالیٰ نے رب العلمین کی حیثیت سے انسان کے جملہ حقوق کی ادائیگی کے لئے تمام ضروری سامان پیدا کر دیئے لیکن چونکہ انسان کی ذہنی ، اخلاقی اور روحانی قوتوں کی نشوونما بھی ضروری تھی کیونکہ اس کے بغیر وہ اپنی پیدائش کے مقصد کو حاصل نہیں کر سکتا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کا ملہ کے ماتحت تدبیر کے ایک چھوٹے سے حصہ کو ایک حد تک انسان کے اختیار میں دے دیا اور اسے فرمایا کہ میرے کہنے کے مطابق چل تجھے میری رحمتوں اور میرے فضلوں کے نتیجہ میں بے انتہا خزانے مل جائیں گے اور پھر تو جو بھی تدبیر کرے گا وہ رَبُّ الْعَلَمِينَ کی صفت کے ماتحت اس کی ربوبیت کی ظلیت میں ہوگی اس طرح تو میرے حکم کے مطابق اقتصادی نظام بنائے گا اور اسے جاری کر سکے گا۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے تقسیم میں تفاوت پیدا کر دیا۔کسی کو کمانے کی زیادہ طاقت دے دی اور کسی کو کم ور نہ تو ہمارا ہرن والا حال ہو جاتا یا شیر والا حال ہو جاتا اور جب انسان نے کمالیا تو فرمایا کہ اس میں سے خود دوسروں کے حقوق ادا کرو میں تمہیں بہت بڑا ثواب دوں گا۔تیرے پاس جو مال ہے یہ دراصل تیری اخلاقی ، تیری ذہنی غور کریں تو یہ بھی شامل ہے ) اور تیری روحانی ترقی کے لئے ہے۔وہ اس طرح پر کہ تیرے مال میں بکر کا حق بھی شامل ہے اب یہ تیری اخلاقی اور روحانی ذمہ داری ہے کہ تو بکر کا حق اسے پہنچا دے ادھر بکر کو یہ کہا کہ حق تو تیرا تھا تجھے استعداد بھی دی تھی لیکن تجھے تکبر اور غرور سے بچانے کے لئے میں نے تیرا حق کسی اور کو دے دیا ہے اب وہ تجھے دے دے گا ادھر اسلامی حکومت کو یہ کہا کہ اگر کوئی شخص رضا کارانہ طور پر دوسرے کے حقوق ادا نہیں کرتا تو یہ تمہارا کام ہے کہ تم حق دار کو اس کا حق دلواؤ لیکن اس دنیا میں مختلف Isms ( از مز ) جب نعرے لگاتے ہیں تو وہ انسانی حقوق ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔اسی طرح ان میں سے وہ جو اسلام کے اقتصادی اصول کو اچھا سمجھتے ہیں مگر وہ ان اصول کو اپنانے سے گریز کرتے ہیں آپ اس بارہ میں غور کریں اور سوچیں۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے اور سوچا ہے مجھے تو اس کی ایک وجہ یہ نظر آتی ہے کہ اگر وہ یہ کہیں کہ اسلام نے ایک حسین اقتصادی نظام قائم کیا ہے ہم اس پر چل کر دنیا کو اس کے اقتصادی حقوق