خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 776
خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء پر عمل پیرا ہونے پر منحصر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں ان نظائر اور شواہد سے سمجھ لینا چاہیے کہ میں اس طرح پر اپنے امر اور اپنے حکم کو اپنی تدبیر کے ذریعہ نافذ کیا کرتا ہوں اگر آدمی سمجھے اور غور کرے تو اس کے لئے اس نتیجے پر پہنچنا کوئی مشکل امر نہیں کہ حقیقی سہارا اللہ تعالیٰ کا سہارا ہے اصل پناہ اللہ تعالیٰ کی پناہ ہے۔اَفَلَا تَتَّقُونَ پھر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار نہیں کرتے ؟ تم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں نہیں آتے؟ اس کو اپنا سہارا نہیں بناتے؟ اس کی انگلی نہیں پکڑتے کہ تم صحیح راہ پر چل کر اللہ تعالیٰ کے پیارے اتنے پیارے کہ جتنے بیٹے پیارے ہوتے ہیں بن جاؤ تم اس کے ایسے خادم بن جاؤ جن سے اللہ تعالیٰ انتہائی شفقت کرتا ہے تم اس کے ایسے عبد بن جاؤ جن سے وہ انتہائی محبت کرتا ہے۔یہ تو تھا روحانی دنیا کا ذکر اب اقتصادیات کا ذکر کیا جاتا ہے۔اقتصادی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں زمین و آسمان میں جو بھی نعمتیں نظر آتی ہیں میں ان سب کا پیدا کرنے والا اور میں ہی سب کا رازق ہوں میں ہی ان تمام چیزوں کا مالک ہوں اس لئے میری ہدایات کے مطابق اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں سے کام لیتے ہوئے دنیا میں ایک ایسا اقتصادی نظام قائم کرو ایسا ہمہ گیر اقتصادی منصوبہ تیار کرو جو زندہ کرنے والا ہو مارنے والا نہ ہو۔اگر تم ایسا اقتصادی نظام قائم کرو گے جو زندگی بخش ہو ہلاک کرنے والا نہ ہو تو اس کے نتیجہ میں تمہارے ذہن میں ، تمہارے اخلاق میں اور تمہاری روح میں بھی ایک جلا پیدا ہو جائے گی جس سے وہ مقصد پورا ہو جائے گا جس کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے۔اور بھی بہت سی آیات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا بندہ بن نہیں سکتا ، اللہ تعالیٰ کی بندگی کے سارے تقاضے پورے نہیں ہو سکتے جب تک کہ انسانی تدبیر اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے ہمرنگ نہ ہو جائے کیونکہ مدبر حقیقی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے۔ہماری ساری تدبیریں بے نتیجہ ہیں اگر ہم اپنی تدابیر کو اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوہ کے رنگ میں رنگین نہیں بنا لیتے۔اب چونکہ دیر ہوگئی ہے اس لئے میں اس حصہ کو چھوڑتا ہوں۔قرآن کریم نے ایسے بہت سارے مکر اور تدابیر کا ذکر کیا ہے جو الہی تدابیر کے مقابلے پر