خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 775 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 775

خطبات ناصر جلد دوم ۷۷۵ خطبہ جمعہ ۲۵ جولائی ۱۹۶۹ء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہو گیا لیکن اس کامل وحی کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے ذیلی وحی از بس ضروری تھی۔آسمان سے رحمت باراں کا نزول ہوتا ہے پانی بہہ کر دریاؤں کی شکل اختیار کر لیتا ہے اگر اس کے آگے بند نہ باندھے جائیں ، تالاب نہ بنائے جائیں یا دریاؤں سے نہریں کھود کر پانی کو استعمال میں نہ لایا جائے تو پانی ضائع چلا جاتا ہے۔اسی طرح آسمان سے وحی کے نزول اور اس کی حفاظت اور اس کے صحیح استعمال کے سامان ذیلی یا ظلی یا تابع وحی کی صورت میں پیدا کر دیئے اس وحی کو سننے کے لئے کان اور اس کے نتیجہ میں دنیا میں جو ایک تغیر عظیم پیدا ہوا اس کے دیکھنے کے لئے آنکھ اور اس روحانی انقلاب سے نتائج اخذ کرنے کے لئے دل بنایا ہے۔یہاں سورہ یونس کی آیہ مبارکہ میں اسی مضمون کو اس کے نتیجہ کے رنگ میں بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہیں سمع اور ابصار دیں یعنی کان اور آنکھیں عطا کیں اور مالک ہونے کی حیثیت سے تمہاری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلا دی ہے اور ان ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہونے کے لئے ہدایت و راہنمائی کے سامان بھی مہیا کر دیئے ہیں۔اب یہ تمہارا کام ہے کہ تم اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں کو ان کے مالک کے احکام کے مطابق استعمال میں لاؤ جس کے نتیجہ میں تمہارا دل صحیح تعلیم کو اخذ کرے اور پھر اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے تمہارے اندر ہمت اور عزم پیدا ہو۔جب تم ایسا کرو گے تو نتیجہ يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ مُردہ قوم میں سے ایک زندہ قوم نکل آئے گی۔اہل مکہ بتوں کو پوجتے تھے۔ہر قسم کے گند میں مبتلا تھے۔اپنے خالق و مالک خدا سے دور، اتنے دور کہ ان کی دوری ہمارے تصور میں بھی نہیں آسکتی مگر اسلام پر عمل پیرا ہونے سے ان کے اندر زندگی کے آثار نمودار ہوئے ان میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ان میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے اور ان میں ابو جہل کا بیٹا عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی پیدا ہوئے۔يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ المیت کا ایک عجیب نظارہ رونما ہوا۔آسمان سے روحانی رزق کے نزول کے نتیجہ میں ان کے اندر ایک عجیب روحانی زندگی پیدا ہوگئی اس کے برعکس جو شخص سمع اور ابصار کے مالک کی ہدایات پر عمل پیرا نہیں ہوتا اس کا باپ خواہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو وہ يُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَقِّ کا مصداق ہوتا ہے۔وہ کبھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث نہیں بن سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا حصول الہی ہدایتوں