خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 671
خطبات ناصر جلد دوم ۶۷۱ خطبہ جمعہ ۶ جون ۱۹۶۹ء ނ دکھانے کے لئے قائم کیا گیا ہے اس میں یہ بات نہیں برداشت کی جاسکتی کہ چونکہ عقیدہ ہم مختلف ہے اس لئے ان کو لوٹ لو۔غرض دنیا کے خواہ کسی ملک کا رہنے والا ہو کسی بھی مذہب سے اس کا تعلق ہو اللہ تعالیٰ کو مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اسلام کا اقتصادی نظام جہاں جاری ہو گا وہاں کوئی تفریق نہیں ہوگی ایک ہی معیار (critaria ) ہوگا اور وہ یہ کہ جتنی طاقت رَبُّ الْعَلَمِينَ نے اس کو دی ہے جتنی استعداد اس کو عطا کی گئی ہے اس قوت اور استعداد کی صحیح اور پوری نشوونما کا سامان ہم نے مہیا کرنا ہے۔غرض اسلام کا اقتصادی نظام ان چار بنیادی صفاتِ باری پر قائم ہے ربِّ، رحمن، رحِيمِ اور ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ لیکن نمایاں ربوبیت عالمین ہے۔ربوبیت عالمین کے ضمن میں یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ جس کے پاس زائد چلا گیا وہ آگے دوسروں کو کیوں دے؟ دوسرے کا حق کیوں تسلیم کرے؟ اس لئے فرمایا کہ وہ مالک ہے حقیقی ملکیت اللہ تعالیٰ کی ہے غیر اللہ کسی چیز کا مالک نہیں ہے۔پس چونکہ وہ مالک ہے اس واسطے مالک نے جو رب ہے اپنی مرضی اور علم کامل سے یہ حکم دیا ہے کہ کسی کو دو یا نہ دو۔اور اگر دو تو کتنا دو۔یا رکھوتو اتنا رکھو۔ایک کروڑ پتی خدا رسیدہ مسلمان صبح و شام استغفار کرتا ہے دعائیں کرتا ہے اور وہ سوچتا ہے کہ قرآن کریم نے اس کے مال کی تقسیم کے کون سے راستے بیان کئے ہیں تا کہ میں اس کے مطابق تقسیم کروں۔جتنا حق مجھے دیا ہے وہ حق میں لے لوں اور جو دوسروں کا حق ہے اسے میں غصب کرنے والا نہ بنوں پس جو مالک ہے وہی حق قائم کر سکتا ہے یعنی رب نے پیدا کیا پھر وہ مالک ہے قو تیں اور استعدادیں بھی اس کی ملکیت اور ان کی نشو نما کے سامان بھی اسی کی ملکیت ہیں اور اس نے بتایا ہے کہ کتنا کسی کو دینا ہے اور ر بوبیت عالمین کی وجہ سے یہ اعلان کیا کہ ہر شخص کی ضرورت اس حد تک پوری کرو کہ اس کی نشو و نما میں کوئی نقص پیدا نہ ہو اور اس کی یہ نشو ونما اپنے کمال کو پہنچ جائے۔پس سوال پیدا ہوتا تھا کہ زید سے لے کر بکر کو دینے کا کیا حق ہے اور کیوں ایسا کیا جائے؟ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک صفت یہ بتائی کہ میں مالک ہوں تمہاری ملکیت ہی نہیں۔جب ہر چیز میری ہے تو جس طرح میں کہوں اس طرح تمہیں خرچ کرنی چاہیے اور جو حقوق میں قائم کروں وہی حقوق قائم ہوں گے کسی اور کا حق ہی نہیں کہ