خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 670
خطبات ناصر جلد دوم ۶۷۰ خطبہ جمعہ ۶ جون ۱۹۶۹ء اور اس کی قوتوں اور طاقتوں کو بھی پیدا کیا وہ اس سے حساب لے گا بعض دفعہ اس دنیا میں بھی لیتا ہے اور بہتوں کا اس دنیا میں حساب نہیں لیتا اس دنیا میں لے لیتا ہے لیکن ان کے ساتھ جو سلوک ہے (اس وقت میں اقتصادی سلوک کی بات کر رہا ہوں) وہ رَبُّ الْعَلَمِینَ کی صفت کو قائم کرتے ہوئے ہونا چاہیے۔ربوبیت عالمین کا جلوہ اس کے اندر نظر آنا چاہیے۔ایک شخص اللہ تعالیٰ کو گالیاں دیتا ہے، ایک دوسرا ہے جو بتوں کی پرستش کرتا ہے ایک دہر یہ ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر یہ مجھ سے دور جا رہا ہے تو خود نقصان اٹھائے گا میں رَبُّ العلمین ہوں اگر تم میرے بندے ہو تو میرے قائم کردہ اقتصادی نظام پر تمہیں عمل کرنا پڑے گا اور وہ یہ ہے کہ جب میں نے اس گالیاں دینے والے انسان کو پیدا کیا اس کی قوتوں اور طاقتوں کو بھی میں نے ہی پیدا کیا اور ان کی نشو و نما کے تمام جسمانی اسباب میں نے پیدا کئے بعض کو اس نے ٹھکرا دیا میری طرف سے اس کو سزا ملے گی لیکن جس قسم کے نشو و نما کے سامان تم پیدا کر سکتے ہو ان میں روحانی بھی آجاتے ہیں یعنی اس کو تبلیغ اور وعظ و نصیحت کرنا اخلاقی بھی آجاتے ہیں کہ اس کو سمجھا نا کہ یہ چیزیں اخلاق کے لئے بڑی ہیں اور جسمانی بھی آجاتے ہیں کہ اس کی ضرورتوں کو پورا کرنا۔اگر آج ابو جہل کے کسی مثیل کے ہاں یا بت پرست کے ہاں یا ہندو کے ہاں بچہ پیدا ہو جس کو اللہ تعالیٰ نے بہت اچھا ڈاکٹر بننے کی طاقت دی ہو اور اسی قسم کا ایک اور بچہ انہی قوتوں اور استعدادوں کے ساتھ ایک مسلمان کے گھر پیدا ہو تو اسلام کا اقتصادی نظام یہ کہتا ہے کہ ان دونوں میں کوئی فرق نہیں کرنا بلکہ ہر دو کی قوتوں کی نشو و نما کے سامان مہیا کرنے ہیں ان سے تعاون کرنا ہے ان کی مدد کرنی ہے اور پوری کوشش کرنی ہے کہ وہ اپنی قوتوں کو بڑھاتے چلے جائیں اور ممکن ہے اپنی اپنی Lines میں آگے جا کر مختلف شقیں ہو جاتی ہیں) اپنی اپنی شق میں وہ سب سے اچھے اور چوٹی کے ڈاکٹر بن جائیں۔ایک بت پرست کا بیٹا ہوگا ایک خدائے واحد و یگانہ کی پرستش کرنے والے کا بیٹا اور خود بھی توحید باری پر قائم ہو گا لیکن جہاں تک اقتصادی تعلقات کا سوال ہے اسلام یہ کہتا ہے کہ ان تعلقات کو رب العلمین کی بنیاد پر قائم کیا جائے۔بعض مذاہب یا بعض فرقے دینے کی بجائے حقوق غصب کرنے کی طرف بھی مائل ہو جاتے ہیں۔اسلام کہتا ہے کہ جو نظام صفت ربوبیت کے جلوے