خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 672
خطبات ناصر جلد دوم ۶۷۲ خطبہ جمعہ ۶/ جون ۱۹۶۹ء وہ حق کو قائم کرے کیونکہ وہ مالک ہی نہیں اسے اختیار ہی نہیں ہے اس کی ملکیت کا دعویٰ ہی غلط ہے۔حقوق کے قیام میں پھر آگے دو چیزیں ہمیں نظر آتی ہیں دراصل یہ امہات الصفات ہیں جن کے گرد سارا اقتصادی نظام چکر لگا رہا ہے۔ربوبیت اور رحمانیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ایک تو قوتوں اور استعدادوں کی صحیح نشو و نما کے سامان پیدا کئے اور کسی حق یا محنت کے بغیر اپنی طرف سے دے دیا ابھی انسان پیدا ہی نہیں ہوا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے یہ سامان پیدا کر دیئے اور پیدا وار یعنی جو اللہ تعالیٰ نے خلق کیا ہے اس کو آگے دو حصوں میں تقسیم کر دیا پہلا حصہ رحیمیت کے نتیجہ میں کہ جتنی مزدوریاں اور اجرتیں ہیں اور اس کے نتیجہ میں جو حقوق پیدا ہوتے ہیں وہ رحیمیت کے نتیجہ میں ہوتے ہیں یعنی کوئی جو بھی کام کرتا ہے اسے اس کام کا بدلہ ملنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے اقتصادی نظام میں بھی کہا ہے کہ جتنا جتنا کسی نے کام کیا اتنا اتنا اسے ملنا چاہیے اور وقت پر ملنا چاہیے اور ایسے رنگ میں ملنا چاہیے کہ دینے والے کو یہ خیال نہ ہو کہ گویا میں احسان کر کے دے رہا ہوں اور اس کو ستانے اور تنگ کرنے لگ جائے۔اس کا حق ہے اسی طرح جس طرح اگر وہ کسی کو قرض دے اور جب واپس لینے آئے تو اگلا کہے کہ دو دو پیسے کر کے لے لیا کرو کچھ لوگ قرض لے کر ایسا کرتے ہیں کہ احسان جتاتے ہیں کہ میں نے تم سے پانچ ہزار روپیہ لیا تھا دیکھو میں کتنا اچھا اور با اخلاق انسان ہوں میں نے تیرے پیسے مارے نہیں ہیں اور وہ واپس کر دیئے ہیں پس بعض لوگ اس طرح بھی کرتے ہیں۔غرض رحیمیت کے جلوے بھی ہمیں اسلام کے اقتصادی نظام میں نظر آ رہے ہیں اور آگے اسلام نے اس کی بڑی تفصیل بتائی ہے کہ مزدور کو وقت پر اور پوری مزدوری دو اور ان دونوں باتوں کو بنیادی طور پر لازمی قرار دیا ہے لیکن چونکہ ربوبیت عالمین کے نتیجہ میں انسانی معاشرہ میں بعض نے امیر بن جانا تھا اور بعض نے غریب اس لئے خالی رحیمیت کے اوپر پیداوار کی تقسیم کو نہیں چھوڑا کہ جتنا کوئی کما لیتا ہے کمالے بلکہ ساتھ مالکیت کو بھی لگایا ہے کہ جتنا وہ نہیں کما سکتا یعنی اگر کوئی شخص ایسا ہو کہ اس کے بچوں وغیرہ یا خاندان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے سوا کائیاں ( سو یونٹ ) درکار ہوں وہ بڑی محنت کرتا ہے۔اس کے بچے بھی اپنا وقت ضائع نہیں کرتے اور