خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 663 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 663

خطبات ناصر جلد دوم ۶۶۳ خطبہ جمعہ ۶ جون ۱۹۶۹ء ہر فرد کی قوت اور استعداد کو کمال تک پہنچانے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ اسے میسر ہونی چاہیے خطبه جمعه فرموده ۶ / جون ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔میں نے پچھلے خطبہ میں بتایا تھا کہ اسلام کا یہ دعویٰ ہے کہ جو اقتصادی نظام وہ دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے وہی ارفع اور برتر نظام ہے اور یہ اس لئے کہ اسلام کا اقتصادی نظام عبادت کے ان تمام تقاضوں کو پورا کرتا ہے جن کی طرف ہمیں اسلامی تعلیم متوجہ کرتی ہے۔اگر ہم زیادہ تفصیل سے غور کریں اور اس مضمون پر سوچیں کہ عبادت کے سارے تقاضوں کا اسلام کے اقتصادی نظام سے کیا تعلق ہے تو ایک عظیم مضمون ہمارے سامنے آتا ہے۔مُخْلِصِينَ لَهُ الدّین میں عبادت کے جس پہلے تقاضا کی طرف اشارہ کیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ عبادت اور پرستش سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی اور کی نہیں کرنی جس کے معنے اسلامی تعلیم کی رو سے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات میں ہر ایک شریک سے منزہ سمجھنا۔دنیا کی تاریخ اور دنیا کے حالات پر نظر رکھتے ہوئے اس کے معنے یہ ہوں گے کہ کسی بت کو خدا کا شریک نہیں ٹھہرانا کسی انسان کو خدا کا شریک نہیں بنانا چاند اور سورج اور پیپل وغیرہ کے درختوں اور سانپوں اور پتھروں کو بھی خدا کا شریک نہیں بنانا نہ ہی اپنے نفس اپنی تدبیر اور اپنے مکر وفریب کو خدا تعالیٰ کا شریک بنانا ہے۔