خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 664
خطبات ناصر جلد دوم ۶۶۴ خطبہ جمعہ ۶ رجون ۱۹۶۹ء اس کے دوسرے معنے یہ ہیں کہ ربوبیت اور الوہیت کی صفات کو خالصہ لِلہ قرار دینا یعنی ان صفات کو بجز ذات باری کسی اور میں قرار نہ دینا اور بظاہر جور بوبیت کرنے والے رب اور فیض پہنچانے والے وجود ہیں انہیں بھی حقیقی رب تصور نہیں کرنا بلکہ ایسے وجودوں کو جو حقیقتاً ایک حد تک اس اسباب کی دنیا میں دوسروں کو فیض پہنچانے والے اور ان کی ربوبیت کرنے والے ہیں ان سب کو اللہ کے ہاتھ کا ایک نظام یقین کرنا۔پس نہ ذاتِ باری میں اور نہ صفات باری میں کسی کو شریک قرار دینا اور اس دنیا کو صفات باری کے جلوے ہی سمجھنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر بڑی وضاحت سے روشنی ڈالی ہے کہ جو صفات اشیا ہیں وہ آثارِ صفات باری ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں ہر چیز کے اندر جو خصوصیت جو صفت جواثر پایا جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کسی نہ کسی صفت کا جلوہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی کا نام سنت اللہ یا قانونِ قدرت رکھا ہے۔پس نہ ذاتِ باری میں نہ صفات باری میں کسی دوسرے کو شریک قرار دینا ہے۔یہ عبادت کا پہلا مطالبہ تھا ویسے اسلام کے ہر حکم میں عبادت کے ان تمام حقیقی تقاضوں کو مد نظر رکھا گیا ہے اسلام کا اقتصادی نظام بھی عبادت کے تمام تقاضوں کو مد نظر رکھ کر دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام کا اقتصادی نظام صفات باری کی بنیادوں پر اس طرح قائم کیا گیا ہے کہ ان صفاتِ حسنہ کا اظہار بھی ہو اور ان میں کسی اور کے شریک ہونے کو برداشت بھی نہ کیا جائے۔غرض خالصہ صفات باری پر اسلام کے اقتصادی نظام کی بنیاد ہے میں چند مثالیں دے کر اس مضمون کو واضح کروں گا۔جیسا کہ میں نے کہا ہے ساری صفات باری اسلام کے اقتصادی نظام میں جلوہ گر ہیں لیکن پہلی بڑی صفت جو اس نظام میں ہمیں جلوہ گر نظر آتی ہے جس کے اوپر میں سمجھتا ہوں کہ سارے نظام کی بنیاد رکھی گئی ہے وہ رب العلمین کی صفت ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بحیثیت رب کے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر شے کے اندر وہ قو تیں اور استعدادیں پیدا کیں۔ہر ایک کی اپنی اپنی قوت اور استعداد ہے اور ہر شخص کے اندر ان قوتوں اور استعدادوں کی حد بندی کی پھر یہ