خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 662
خطبات ناصر جلد دوم ۶۶۲ خطبه جمعه ۳۰ رمئی ۱۹۶۹ء ان کا یہ دعویٰ نہیں کہ ان اصول کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت دنیا میں رائج کیا گیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا اس سے کیا تعلق۔ہم کماتے ہیں اور پیدا کرتے ہیں۔ہم جس طرح چاہیں پیداوار کو آ گے تقسیم کریں اور جس طرح چاہیں کی آگے جو شکلیں نکلتی ہیں وہ بھی ظالمانہ ہوتی ہیں۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ایک فقرہ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُونَ میں بڑی وضاحت سے یہ اعلان کیا کہ جو اقتصادی نظام اسلام دنیا کے سامنے رکھ رہا ہے دنیا کا کوئی اور اقتصادی نظام نفع رسانی میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ویسے اس نظام کے ماننے والے اپنے دل کی خواہشات کے مطابق اس کی خوبیاں بیان کرتے رہیں تو اور بات ہے لیکن ٹھوس دلائل کے ساتھ کوئی نظام اس بات کو ثابت نہیں کر سکتا کہ اس نے انسانیت کے حقوق کی (ان کے کسی ایک حصہ کو نہیں ) اسی طرح حفاظت کی ہے جس طرح اسلام نے تمام انسانوں کے حقوق کی حفاظت کی ہے۔پس صرف یہ بات نہیں کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ اسلام کا اقتصادی نظام بہترین ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم نے بانگ دہل یہ اعلان کیا ہے کہ جو نظام قرآن کریم کو نازل کرنے والے خدا کی طرف سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا کی طرف آیا ہے وہی انسان کے لئے اقتصادیات کا بہترین نظام ہے اور وہ تمام انسانوں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے کسی کی حق تلفی نہیں ہونے دیتا اور اسلام کا یہ دعوئی اس لئے ہے کہ اسلام کا اقتصادی نظام عبادت کے ان گیارہ تقاضوں کو پورا کرنے والا ہے جن کی طرف مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے۔آج تو تمہید ہی بیان ہو سکی ہے آگے میں بیان کروں گا انشاء اللہ کہ اسلام کا اقتصادی نظام عبادت کے گیارہ تقاضوں کو کس طرح پورا کرتا ہے اور اگر کسی تقاضا کے متعلق کوئی بنیادی بات نظر آتی ہے تو قرآن کریم نے اس کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ منکر اسلام جو کام کرتا ہے، جو دعویٰ کرتا ہے، جو اعلان کرتا ہے، جو بات کرتا ہے وہ حقیقی عبادت کی خصوصیتوں اور اس کے تقاضوں کے خلاف ہے اس لئے وہ اسلام کے اقتصادی نظام کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا۔روزنامه الفضل ربوہ ۱۶ / جولائی ۱۹۶۹ ء صفحہ ۲ تا ۵)