خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 636 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 636

خطبات ناصر جلد دوم ۶۳۶ خطبہ جمعہ ۱۶ رمئی ۱۹۶۹ء نئے جسم میں رکھا جاتا ہے اور جس دن حشر ہو گا قیامت آئے گی انسانی روح کو وہ جسم عطا کیا جائے گا جس کے نتیجہ میں اور جس کی وجہ سے ہماری روح اور ہماری زندگی اس دنیا میں وہ تمام احساسات رکھے گی جو اس دنیا کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور ان لذتوں اور سرور ( اور اللہ تعالیٰ کے غضب اور قہر کی آگ ) کا احساس بھی رکھے گی جن کا تعلق اس زندگی کے ساتھ ہے۔جس طرح اس جسم اور روح کا آپس میں تعلق ہے اسی طرح ہماری عبادتوں کے ان حصوں کا جو حقوق اللہ کہلاتے ہیں اور ہماری عبادتوں کے ان حصوں کا بھی جو حقوق العباد کہلاتے ہیں ایک روح اور جسم سے تعلق ہے۔جب قو میں گرتی ہیں تو وہ چھلکے پر ہاتھ مارتی اور اس پر خوش ہو جاتی ہیں یعنی ظاہری شکل انہیں خوش کرنے لگتی ہے اور وہ اسی کو سب کچھ سمجھنے لگ جاتے ہیں روح بیچ میں سے غائب ہو جاتی ہے۔وہ چھلکا مغز سے خالی ہوتا ہے اور ایک سست اور بے عمل فلسفی سب کچھ سمجھتے ہوئے بھی اس کو کافی سمجھتا ہے۔یعنی ایک فلسفیانہ دماغ بعض دفعہ سمجھتا ہے کہ روح کافی ہے جسم کی ضرورت نہیں لیکن یہ اس سنت کے خلاف ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے جاری کی ہے۔جسم کا ہونا بھی ضروری ہے اور روح کا ہونا بھی ضروری ہے اور جب تک یہ دونوں چیزیں جمع نہ ہوں اس وقت تک نتیجہ نہیں نکل سکتا۔جس کے اس ضمن میں یہ معنی ہوں گے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ خوش نہیں ہو سکتا اگر محض یہ خیال ہو کہ روح عبادت قائم رکھنی چاہیے جسم کی ضرورت نہیں یا ظاہر کی پابندی کی جائے اور اس کے پیچھے روح نہ ہو تو ان ہر دو صورتوں میں یہ خدا کی نگاہ میں ایک لغو فعل ہوگا۔پس یہ نماز جو ہم مساجد میں جمع ہو کر ادا کرتے ہیں۔یہ اسی صلوۃ کی ظاہری شکل اور اس روح عبادت کا جسم ہے جو روح عبادت کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں قائم کرنا چاہتا ہے۔پس جہاں ہمیں روح کی ضرورت ہے وہاں جسم اور ظاہری شکل کی بھی ضرورت ہے۔اس کے بغیر میرے نزدیک روح کی موجودگی کا دعوی باطل ہو گا۔ایک زندہ جماعت اس بات کو برداشت نہیں کر سکتی کہ اس کی طرف منسوب ہونے والے صرف دعوی کے طور پر اور لفظا اس کی طرف منسوب ہوں مگر حقیقت وہ ان تقاضوں کو پورا نہ کریں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی جماعت اور امت مسلمہ سے کئے ہیں اور جن کا پورا کرناضروری ہے یہ روحانی شستی