خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 635
خطبات ناصر جلد دوم ۶۳۵ خطبہ جمعہ ۱۶ رمئی ۱۹۶۹ء مجالس خدام الاحمد یہ روح خدمت اور انصار اللہ روح تربیت کے ماتحت اپنے پروگراموں کی طرف متوجہ ہوں خطبه جمعه فرموده ۱۶ مئی ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جو مضمون میں نے اپنے گزشتہ چند خطبات میں شروع کیا تھا اس مضمون سے ہٹ کر آج میں بعض باتیں کہنا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو انشاء اللہ اگلے جمعہ سے اس تسلسل میں میرے خطبات شروع ہو جائیں گے۔پہلی بات آج میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اہلِ ربوہ کا ایک حصہ مساجد میں نماز باجماعت ادا کرنے میں پھر سست ہو گیا ہے۔نماز با جماعت ادا کرنا اسلامی عبادت کی روح سے تعلق رکھتا ہے اور عبادت کی روح مختلف شکلوں میں اس دنیا میں قائم کی گئی ہے۔نماز ( جس طرح ہم مساجد میں ادا کرتے ہیں ) اس روح عبادت کی ایک ظاہری شکل ہے اور اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ قانون بنایا ہے کہ نہ روح جسم کے بغیر کام کر سکتی ہے اور نہ جسم میں روح کے بغیر زندگی کے آثار پائے جاسکتے ہیں۔اس لئے اسلام نے ہمیں آئندہ کے متعلق جو خبریں دی ہیں ان میں یہ بھی بتایا ہے کہ اس جسم سے جدا ہونے کے بعد ہماری روح کو دو جسم دو مختلف اوقات میں عطا کئے جاتے ہیں۔ایک جسم تو عارضی بر زخ کے زمانہ کا جسم ہے یعنی روح انسانی کو عارضی طور پر اس زمانہ میں اس