خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 637 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 637

خطبات ناصر جلد دوم ۶۳۷ خطبہ جمعہ ۱۶ رمئی ۱۹۶۹ء ربوہ میں ہو یا باہر کی جماعتوں میں برداشت نہیں کرنی چاہیے جب بھی ہمیں کسی جگہ ذراسی مستی بھی نظر آئے ہمیں اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ سارے محلہ کو اور سارے احمدیوں کو چوکس اور بیدار ہو کر اس سستی کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔خدا کا فضل ہے کہ جماعت کا بڑا حصہ روح اخلاص رکھتا ہے لیکن بشری کمزوریوں کی وجہ سے وہ اس بات کا بھی محتاج ہے کہ اسے بار بار یاد دہانی کرائی جائے۔الہی سلسلوں میں بعض منافق بھی ہوتے ہیں ان میں سے بہتوں کو تو اللہ تعالیٰ ہدایت بھی دے دیتا ہے اور بعض بد قسمت اسی نفاق کی حالت میں اس دنیا سے کوچ کر جاتے ہیں لیکن ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم ان کی ہدایت کی کوشش کرتے رہیں اور ان کے لئے دعا بھی کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی اپنے فضل کو پہچاننے کی توفیق دے اور اس فضل کے حصول کے لئے ان کے اندر ایک جنون پیدا کرے تا وہ اپنی ہر چیز کو قربان کر کے خدا تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے والے ہوں۔پس یہ درست ہے کہ جماعت میں بعض منافق بھی موجود ہیں جن کی ہدایت کے لئے ہمیں کوشش کرنی چاہیے لیکن جماعت کے اکثر افراد ہر لحاظ سے اچھے ہیں اعتقاد کے لحاظ سے بھی اور عمل کے لحاظ سے بھی۔وہ نمازوں سے بھی محبت اور پیار رکھتے ہیں اور ان کے دل اللہ کے گھر میں اٹکے رہتے ہیں گوا خلاص میں کمی نہیں لیکن ایک حصہ جماعت کا سُست ہے۔زندگی میں انسان کو ایک عظیم جد و جہد کرنی پڑتی ہے اور اسی حصہ جماعت کے افراد اپنی اس جد و جہد اور اس مجاہدہ کے ابتدائی دور میں ہوتے ہیں ان کو اپنے بھائیوں کے سہارے اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ ضرورت تھی تبھی تو خدا نے یہ حکم دیا ہے کہ تَعاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوی اگر کسی انسان کو اپنے بھائی کے سہارے، تعاون اور مدد کی ضرورت نہ ہوتی تو اس حکم کی بھی ضرورت نہ تھی۔یہ حکم ہمیں بتا رہا ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں روحانی ارتقا کے مدارج طے کرتے ہوئے دوسروں کے سہاروں کی ضرورت پڑتی رہتی ہے اور یہ سہارا دینا آپ کا فرض ہے۔اس کے بغیر سست فرد کی شستی دُور نہیں ہو سکتی۔اس کے بغیر غافل غفلت کے پردوں کو چیر کر نورانی فضا میں داخل نہیں ہوسکتا۔پس اپنے کمزور بھائیوں کو سہارا دیا کریں۔