خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 601 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 601

خطبات ناصر جلد دوم ۶۰۱ خطبہ جمعہ ۲ رمئی ۱۹۶۹ء نے ایک مصیبت ڈال رکھی ہے۔آج یہ چیز لینے آ گیا۔دس دن کے بعد دوسری ضرورت کو بیان کر دیا اور کسی چیز کا مطالبہ کر دیا۔وہ یہ نہیں سوچتے کہ قیمت کے لحاظ سے شائد مہینہ بھر کے مطالبات چند پیسوں کے ہوں لیکن چونکہ ان کی طبیعتوں کا رحجان اس طرف ہوتا ہے کہ ہم نے اپنے ہمسایوں کو اس بات کی اجازت نہیں دینی کہ وہ ہمیں ہر روز تنگ کرتے رہیں۔اس لئے وہ ان سے وہ سلوک نہیں کرتے جو وہ ان سے اس صورت میں کرتے کہ ان کے فیصلے مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ کے مطابق ہوں اور اگر ان کا فیصلہ ان احکام کے مطابق ہوتا جو اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں تو ان کا سلوک اور ہوتا اور ان کے احساسات اور جذبات یہ ہوتے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر کتنا فضل کیا ہے کہ اس نے ہمارے ہمسائے کو ایک دھیلہ یا دو پیسہ کی ضرورت پیدا کر دی اور اس طرح اس نے ہمارے لئے ایک عظیم ثواب کا سامان پیدا کر دیا۔وہ اس رنگ میں بھی سوچ سکتے ہیں اور اپنے فیصلے کر سکتے ہیں۔غرض ایک نقطۂ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زندگیاں فیصلے ہی فیصلے ہیں۔وہ فیصلوں کا مجموعہ ہیں بالکل اسی طرح جس طرح روئی کی گانٹھیں بنادی جاتی ہیں اور روٹی کے ریشے ان کے اندر آ جاتے ہیں۔ہماری زندگی کے فیصلوں کی ہر روز ایک بیل (Bale) یعنی گانٹھ بنتی ہے وہ فیصلے وقت کے پریس میں دب جاتے ہیں اور شام کو ہم معمولی سی گٹھڑی فیصلوں کی لاتے ہیں۔حالانکہ اس گٹھڑی میں اسی طرح بے شمار فیصلے ہوتے ہیں جیسے روئی کی گانٹھ میں بے شمار ریشے ہوتے ہیں ہمارا دن فیصلے کرتے ہوئے گزر جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم ان فیصلوں کی بنیاد دو چیزوں پر رکھ سکتے ہو۔ایک میری محبت اطاعت اور میری رضا کی جستجو پر اور دوسرے اپنی مرضی پر اگر تم اپنے فیصلوں کی بنیا دا اپنی مرضی پر رکھو گے یا اللہ کے سوا کسی اور کی مرضی پر رکھو گے تو تم اللہ تعالیٰ کی پرستش اور عبادت کا حق ادا نہیں کر رہے ہو گے۔اگر تم اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کرنا چاہتے ہو۔اگر تم عبادت کا حق ادا کرنا چاہتے ہوتو تمہیں اپنے فیصلوں کو خالصةً لِلہ بنانا پڑے گا اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تم مشرک بن جاؤ گے تم دہر یہ بن جاؤ گے تم اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندے نہیں ہو گے۔پس الدين القضاء دین کے معنی قضا کے ہیں اور قضا کا لفظ دوموٹے معنوں میں استعمال