خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 600
خطبات ناصر جلد دوم ۶۰۰ خطبہ جمعہ ۲ رمئی ۱۹۶۹ء میں بیان کی ہے کہ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ۔دین کے مختلف معانی حقیقی عبادت کے مختلف تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔اس وقت تک میں نو تقاضوں کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر چکا ہوں۔دین کے دسویں معنی جو یہاں چسپاں ہوتے ہیں قضا یا فیصلہ کے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تمہاری زندگیاں ایک نقطۂ نگاہ سے فیصلوں کے گٹھڑ ہیں۔ہم صبح سے لے کر شام تک بیبیوں سینکڑوں بلکہ بعض دفعہ ہزاروں فیصلے کرتے ہیں۔ہم اپنے متعلق بھی فیصلے کرتے ہیں۔مثلاً ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آیا ہم نے اپنے اوقات کو گپ شپ میں خرچ کرنا ہے یا اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کو معمور کرنا ہے۔ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آج کے مختلف کاموں کو کن اوقات میں کرنا ہے۔مجھے قریبا ہر روز سوچ کر یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ میں نے اپنے کاموں کو کس پروگرام کے ماتحت کرنا ہے۔مثلاً ڈاک میں فلاں وقت دیکھ سکتا ہوں اس لئے میں ڈاک اس وقت دیکھوں گا یا فلاں کام فلاں وقت کروں گا۔بعض وقت دوست بے وقت ملنے کے لئے آجاتے ہیں اور میرا سارا پروگرام درہم برہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کبھی میں اپنی مرضی کرتا ہوں اور کبھی ان کی بات مان لیتا ہوں۔بہر حال مجھے ہر روز اپنے کاموں کے متعلق فیصلہ کرنا پڑتا ہے اور آپ میں سے ہر ایک کو بھی ہر روز کچھ فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔چاہے انسان کو احساس ہو یا نہ ہولیکن انسان کا دماغ فیصلے کرتا ہے۔مثلاً انسان اصولی طور پر یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اپنے بچوں، اپنے اقربا اور ان لوگوں سے جو اس پر انحصاررکھتے ہیں اور وہ ان کا راعی ہے کس قسم کا سلوک کرے بعض لوگ اپنی طبیعت کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔اگر ان کی طبیعت میں سختی ہے تو ان کا سلوک سخت ہوتا ہے۔اگر ان کی طبیعت میں ضرورت سے زیادہ نرمی ہے تو ان کا سلوک اپنے لواحقین سے ضرورت سے زیادہ نرم ہوتا ہے اور وہ ان کی تربیت کو نظر انداز کرنے والے بن جاتے ہیں۔اسی طرح ہم اپنے ہمسایوں کے متعلق بعض فیصلے کرتے ہیں مثلاً ایک شخص یہ فیصلہ کرتا ہے کہ میرے ہمسائے کا مجھ پر بڑا حق ہے۔اس کی ہر ضرورت کو میں اسی طرح پورا کروں گا جس طرح میں اپنے قریبی رشتہ داروں کی ضرورتوں کو پورا کروں گا۔بعض لوگ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہمسائے