خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 602 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 602

خطبات ناصر جلد دوم ۶۰۲ خطبہ جمعہ ۲ رمئی ۱۹۶۹ء ہوتا ہے۔ایک تو یہ لفظ حکم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور دوسرے یہ قضا کے فیصلوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اور یہاں ہم یہ دونوں معنی لے سکتے ہیں۔بہر حال ایک معنی قضا کے حکم دینا، اپنے یا غیر کے متعلق فیصلہ کرنا یا ہدایت دینا یا ڈائر کٹو دینا ہیں۔ان لوگوں کو جو ہمارے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور جن کو ہدایت دینا ہمارا فرض ہے۔مثلاً ہیڈ ماسٹر ہے، پرنسپل ہے، گھر کا مالک ہے، محلہ کا عہدہ دار ہے۔ان سب کو حکم یہ ہے کہ جب کوئی فیصلہ کرنے لگو تو اس بات کا خیال رکھو کہ تمہارے فیصلہ کی بنیا د احکام الہی پر ہو اس کے بغیر تمہارا عبادت کا دعویٰ غلط ہو گا۔ایک شخص یہ کہتا ہے کہ میں خدائے واحد و یگانہ کی عبادت کرتا ہوں اور کسی کی پرستش نہیں کرتا لیکن جس وقت محلہ میں کوئی ہدایت دینی ہو کوئی حکم جاری کرنا ہو تو وہ تعصب اور حسد سے کام لیتا ہے اور اگر کوئی پریذیڈنٹ تکبر، حسد یا تعصب کی بنا پر فیصلہ کرتا ہے تو خدائے واحد کی عبادت کیسی کہ اس نے خدا کے لئے اس چیز کا بھی خیال نہیں رکھا کہ وہ تعصبات سے پاک ہو کر اور حسد کو کلی طور پر اپنے خیالات سے باہر پھینک کر اپنے فیصلے کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خواہ فیصلہ حکم ، ہدایت یا ڈائر کٹو کی شکل میں ہو جو ایک قاضی باہم جھگڑوں میں کرتا ہے وہ فیصلہ خالصہ اللہ کے لئے ہو جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ فیصلہ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کے ماتحت ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو۔قرآن کریم کے مطالعہ سے اس معنی کے لحاظ سے قضا کے جو بعض پہلو نمایاں طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ان میں سے مثلاً ایک پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سورۃ اسراء ( بنی اسرائیل ) میں فرماتا ہے۔و قضى رَبُّكَ اَلَا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (بنی اسرآءيل: ۲۴) ہم نے فیصلے مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے ماتحت کرنے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ ہر قسم کے شرک سے بچا جائے۔اس کے بغیر حقوق اللہ ادا نہیں ہو سکتے۔انسان ایک چیز کے حصول میں بڑا پیسہ خرچ کرتا ہے اور بعض دفعہ ناجائز خرچ بھی کرتا ہے اور بعض دفعہ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ میں اپنے پیسے خرچ کرنے کی وجہ سے اور اپنے مال کی بدولت اپنے مقصود کو حاصل کرلوں گا اور نہیں جانتا کہ اس مال پر بھی اللہ کا تصرف اس کا فیصلہ اور اس کی قضا جاری ہے۔