خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 372
خطبات ناصر جلد دوم ۳۷۲ خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء ناراض ہوتا ہے جب تک کسی نے انہیں تو جہ نہیں دلائی تھی ، جب تک کسی ذمہ دار نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی تھی اس وقت تک میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو معاف کرے گا اور میری دعا بھی یہی ہے کہ خدا تعالیٰ ان کو معاف کرے لیکن اب جبکہ انہیں یاد دلایا گیا ہے اور ان کو پتہ لگ گیا ہے کہ اسلام نے اس چیز کو جائز قرار نہیں دیا وہ اس کام سے باز نہ آئے تو وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک گناہگار ہوں گے۔قرآن کریم کہتا ہے کہ اگر تم ان معاملات کو حکام کے پاس لے جاؤ اور وہ ان کے متعلق کوئی غلط فیصلہ بھی کر دیں تب بھی اللہ تم سے جواب طلبی کرے گا اس لئے قرآن کریم کی اس ہدایت کی روشنی میں میں نے کہا ہے کہ اگر آبادی کمیٹی یا نظارت امور عامہ یا کوئی اور ایجنسی اور شعبہ کسی کو ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے تو یہ اجازت غلط ہے اگر کوئی شعبہ ایسا کرے گا تو وہ بھی ذمہ دار ہو گا اور گناہگار ہوگا۔بہر حال جس نے غیر کی ملکیت میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کیا اور اس سے فائدہ اُٹھا یا وہ گناہگار ہے اور میرا اور جماعت کا بحیثیت جماعت فرض ہے کہ اپنے بھائی کو گناہگا ر ہونے سے بچائے تا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے نہ آئے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر میں نے تمہارے لئے حلال رزق کے سامان اور وسائل پیدا نہ کئے ہوتے اور شیطان تمہیں بہکا دیتا تب تو شاید تمہارا کوئی عذر ہو جاتا لیکن رَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَتِ (النحل : ۷۳) میں نے طیب رزق کے بے حساب سامان تمہارے لئے پیدا کئے ہیں اگر تم میرے اس عظیم اقتصادی نظام کے بعد بھی ناجائز باتوں کو اور ناجائز تصرفات سے مال اکٹھا کرنا چاہو یا دوسروں کی چیزوں سے ان کی اجازت کے بغیر فائدہ حاصل کرنا چاہو تو یہ درست نہیں ہے اَفَبِالْبَاطِل يُؤْمِنُونَ (النحل : ۷۳) کیا ایسے لوگ ایک ہلاک ہونے والی باطل چیز پر انحصار رکھتے ہیں اور ان کا یہ ایمان ہے کہ دنیا کی ضرورتوں کو اس قسم کے باطل افعال پورا کر دیں گے اور اللہ تعالیٰ نے جو قو تیں اور استعدادیں انہیں دی ہیں اور ان کے لئے رزق طیب کے جو سامان پیدا کئے ہیں ان سے وہ انکار کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ تم رزق طیب کے حصول کے سامان پیدا کرو اور اس کے نتیجہ میں روحانی طور پر تم میری برکات کے وارث بنو گے لیکن تم اس کا انکار کرتے ہو، تم اس کا کفر کرتے ہو، تم ناشکری بھی کرتے ہو اور اس کی طرف متوجہ بھی نہیں