خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 373 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 373

خطبات ناصر جلد دوم ۳۷۳ خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء ہوتے پھر تم اللہ تعالیٰ کے غضب سے کیسے بچ سکتے ہو۔ہر احمدی بھائی کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے دوسرے بھائی کو اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچانے کی کوشش کرے اور جماعت کے نظام کا یہ فرض ہے کہ اس قسم کے باطل افعال کو رو کے چند دنوں کے لئے اور وقتی طور پر تکلیف ہوگی لیکن میں کسی کا رازق نہیں ، نہ کوئی اور شخص دوسرے کا رازق ہے رزاق تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور اس نے یہ کہا ہے کہ حلال اور طیب راہوں سے اموال کماؤ اور اسی نے یہ فرمایا ہے کہ رزق حلال اور رزق طیب کے سامان میں نے پیدا کئے ہیں اور بے شمار پیدا کئے ہیں اور خدا یہ کہتا ہے کہ اگر تم طیب رزق کے حصول کی راہوں کو چھوڑو گے، غلط قسم کے تصرفات سے ناجائز ، عارضی اور ہلاک ہونے والا فائدہ حاصل کرو گے تو تم خدا تعالیٰ کے ناشکرے بندے بن جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تم سے ناراض ہو جائے گا اور ہم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ اس سے یا اس کے بھائی سے ناراض ہو جائے ہم تو ہر وقت استغفار کرتے رہتے ہیں اور اس کی پناہ ڈھونڈتے رہتے ہیں اور جس طرح ہمیں اپنی فکر ہے اسی طرح ہمیں اپنے بھائیوں کی بھی فکر ہے اور ہم ان سے ایسے کام نہیں ہونے دیں گے (جہاں تک ہماری طاقت ہے ) جن کے نتیجہ میں وہ خدا تعالیٰ کو ناراض کرنے والے ہوں۔پس ان چیزوں کی طرف آپ توجہ کریں صفائی ظاہری بھی ہو اور باطنی بھی اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے جہاں تک اس ظاہری صفائی کا تعلق ہے کہ خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمدیہ کے نفوس صاف ہوں یعنی ان کے کپڑے اور جسم صاف اور ستھرے ہوں یہ خدام الاحمدیہ کا کام ہے اور سڑکوں کی صفائی کی ذمہ داری بھی خدام الاحمدیہ پر ہے۔گھروں کے اندر کی جو صفائی - مالک خانہ کی ذمہ داری ہے اور جو زبان کی صفائی اور پاکیزگی ہے وہ اہالیانِ ربوہ کی ذمہ داری ہے۔ربوہ میں رہنے والا ہر شخص اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ اپنے ماحول کو گندہ نہ ہونے دے اور قرآن کریم کے احکام کے خلاف غلط جگہ پر اور غیر کے مال میں جو تصرفات کئے گئے ہیں اور ناجائز استفادہ غیر کے مال سے کیا جارہا ہے اس کو درست کرنا اور باطل کو حق بنا نا یہ کام نظام کی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے شاید ایک مہینہ صبر کیا جا سکے اس سے زیادہ نہیں اور قرآن کریم ہے وہ