خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 371 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 371

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء (ایسی ہر چیز جس میں کوئی اسلام کے حکم کی خلاف ورزی کر رہا ہو ) اسے ہم برداشت نہیں کریں گے خصوصاً جب اس کے ذریعہ معاشرہ میں بہت زیادہ فساد بھی پیدا ہو سکتا ہو۔آپ یہ یا درکھیں کہ ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے کیونکہ اب یہ بات میرے علم میں آگئی ہے نومبر کے مہینہ ( کیونکہ اٹھنے اور اٹھانے میں کچھ وقت لگے گا) کے آخر تک کوئی کھوکھا یا دکان کسی ایسی زمین میں باقی نہیں رہنی چاہیے جس کا دکاندار یا کھوکھے والا مالک نہیں یا مالک زمین سے اس نے اجازت نہیں لی اس میں یہ استثنا بھی نہیں ہے کہ دفتر آبادی یا نظارت امور عامہ یا کوئی اور شعبہ اس کی اجازت دے کیونکہ خدا تعالیٰ نے انہیں یہ حق نہیں دیا کہ وہ غیر کی زمین میں اس کی مرضی کے بغیر تصرف کریں دفتر آبادی کا یہ حق نہیں کہ جو زید کے پاس زمین کا ایک ٹکڑہ بیچ دے اور وہ قانونی طور پر اس کی ملکیت بن جائے تو پھر کسی اور کو اجازت دے دے کہ وہ اس ٹکڑہ میں جا کر دکان کھول لے پھر ربوہ کے بعض ٹکڑے ایسے ہیں کہ سارا ربوہ ان کا مالک ہے۔ان ٹکڑوں کو ہم اوپن سپیسز (Open Spaces) یعنی کھلی جگہیں کہتے ہیں وہ آبادی کے پھیپھڑے بھی کہلاتے ہیں ان کی وجہ سے ہوا زیادہ صاف رہتی ہے ان ٹکڑوں کو اس معنی میں آباد کرنا چاہیے کہ وہاں گھاس لگائی جائے، درخت لگائے جائیں اور بچوں کے کھیلنے کا انتظام کیا جائے کہ وہ وہاں کھلی جگہ میں ورزش کریں ہم ان ذمہ داریوں کو تو بھول گئے اور اس کی بجائے وہاں کوئی آرہ لگ گیا ہے یا کوئی اور چیز بنادی گئی ہے یہ بالکل بیہودہ بات ہے میں یہاں یہ ہرگز نہیں ہونے دوں گا اور یہ بات میں اتنے وثوق کے ساتھ اس لئے کہتا ہوں کہ اکثر ہمارے بھائی ایسے ہیں جن کو کسی نے اس طرف توجہ نہیں دلائی اب میں نے انہیں توجہ دلا دی ہے اور ان کو پتہ لگ گیا ہے کہ یہ چیز جائز نہیں اس لئے وہ اس چیز کو چھوڑ دیں گے۔ممکن ہے کہ بعض دوست اس رنگ میں برا منائیں کہ ہمیں ان کا بُرا منا نا کسی اور رنگ میں بُرا لگے اور ہم ان کی اصلاح کے لئے کوئی ایسی باتیں کریں جو ان کو اور بھی بُری لگے لیکن بہر حال ایک احمدی مالک کی رضامندی کے بغیر ایک باطل چیز سے ایک ہلاک ہونے والی دنیوی چیز سے ایک عارضی اور دنیوی نفع کیسے اُٹھا سکتا ہے جب کہ اسے یہ پتہ بھی ہو کہ اس طرح خدا تعالیٰ