خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 342
خطبات ناصر جلد دوم ۳۴۲ خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۶۸ء لیکن ” فاضل“ کے معنی انہوں نے وہی کئے تھے جو ایک مومن کیا کرتا ہے انہوں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ ہمارے پاس دو درجن کوٹ ہونے چاہئیں اور پچاس قمیصیں ہونی چاہئیں اور ایک دو بھٹی پرانی قمیصیں جو بیکار پڑی ہیں اور استعمال میں نہیں آتیں وہ لا کر دے دی جائیں بلکہ ان میں سے اگر کسی کے پاس کپڑوں کے دو جوڑے تھے تو اس نے کہا میں ایک جوڑے میں گزارہ کر سکتا ہوں دوسرا جوڑا زائد ہے چنانچہ اس نے وہ جوڑا پیش کر دیا۔ایک صحابی کے پاس کچھ سونا تھا انہوں نے یہ سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا یہ عمدہ موقع ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ضرورت ہمارے سامنے رکھی ہے اور ہمیں تلقین فرمائی ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ کریں چنانچہ وہ اشرفیوں کا ایک توڑا ( جو وہ اچھی طرح اٹھا بھی نہیں سکتے تھے ) لے آئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت پیش کر دیا اور اس طرح غلہ ، کپڑوں اور روپے کے ڈھیر لگ گئے اور خدا تعالیٰ نے مومنوں کے اس ایثار کے نتیجہ میں ایک پورے قبیلہ کی جائز ضرورتوں کو پورا کرنے کے سامان کر دیئے۔ان دو واقعات کے بیان کرنے سے اس وقت میری یہ غرض نہیں کہ میں یہ بتاؤں کہ صحابہ کرام کس قسم کی قربانیاں کیا کرتے تھے بلکہ میری غرض یہ بتانا ہے کہ ان قربانیوں کے پیچھے جس روح کا صحابہ کرام نے مظاہرہ کیا تھا وہ کیا تھی ؟ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے اور ان مثالوں سے صاف ظاہر ہے کہ ان قربانیوں کے پیچھے جو روح تھی وہ یہ تھی کہ نَحْنُ الْفُقَرَاء إِلَى اللهِ ہم اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور اللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ اللہ کو کسی کی احتیاج نہیں تمام تعریفوں کا وہ مالک ہے ہمیں اپنی دنیوی اور اُخروی ضرورتوں کے لئے یہ قربانیاں دینی چاہئیں اور دنیوی اور اُخروی انعاموں کے حصول کے لئے ان قربانیوں کا پیش کرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ان مثالوں سے روز روشن کی طرح یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صحابہ کے اندر جو روح تھی وہ ی تھی کہ وہ الْفُقَرَآءُ إِلَی اللہ ہیں۔منافق ہر جگہ ہوتے ہیں اس وقت میں ان کی بات نہیں کر رہا ان میں سے جو مخلص اور ایثار پیشہ تھے اور بھاری اکثریت انہی لوگوں کی تھی ان کی زبان پر یہودیوں کی طرح یہ نہیں آتا تھا کہ اِنَّ اللهَ فَقِيرٌ وَنَحْنُ أَغْنِيَاءُ بلکہ ان کی زبان پر یہ تھا، ان کے دل میں