خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 341 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 341

خطبات ناصر جلد دوم ۳۴۱ خطبه جمعه ۱۸ /اکتوبر ۱۹۶۸ء اللہ تعالیٰ فرماتا ہے چونکہ تم اس کے محتاج ہو اور وہ تمہارا محتاج نہیں اس لئے تم اپنی فکر کروان يشأ يذهبكم اگر وہ چاہے تو روحانی حیات سے تمہیں محروم کر دے وَيَأْتِ بِخَلْقِ جَدِيدِ اور ایک اور ایک اور ایسی قوم پیدا کر دے جو اپنے کو اس کے لئے فنا کر دے اور اس میں ہو کر ایک نئی زندگی پائے۔خلق جدید کا ایک نظارہ دنیا دیکھے گی پھر وہ اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جا ئیں گے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے فَنَا فِي الرَّسُولِ اور فَنَا فِی اللہ کے نتیجہ میں ایک نئی زندگی پائی اور ان کی خلق جدید ہوئی یہودیوں کے برعکس ان کا یہ حال تھا کہ ایک موقع پر ایک جنگ کی تیاری کے لئے بہت سے اموال کی ضرورت تھی اور ان دنوں کچھ مالی تنگی بھی تھی اور دنیا ایسی ہی ہے کبھی فراخی کے دن ہوتے ہیں اور کبھی تنگی کے دن ہوتے ہیں اس موقع پر بھی تنگی کے ایام تھے اور جنگی ضرورت تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے سامنے ضرورت حقہ کو رکھا اور مالی قربانیاں پیش کرنے کی انہیں تلقین کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تو اپنا سارا مال لے کر آگئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنا نصف مال لے کر آ گئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میری یہ پیشکش قبول کر لی جائے کہ میں دس ہزار صحابہ کا پورا خرچ برداشت کروں گا اور اس کے علاوہ آپ نے ایک ہزار اونٹ اور ستر گھوڑے دیئے اسی طرح تمام مخلص صحابہ نے اپنی اپنی توفیق اور استعداد کے مطابق مالی قربانیاں پیش کیں اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بہترین نتائج نکالے۔ایک موقع پر ایک نو مسلم قبیلہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آ گیا اور ان کو آباد کر نے کا سوال تھا وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر آئے ہوں گے کیونکہ ان دنوں وہاں بھی مخالفت بہت زیادہ تھی جیسا کہ کبھی کبھی ہر زمانہ میں اسلام کے خلاف ہر ملک میں مخالفت پیدا ہوتی رہتی ہے اور مومن ان مخالفتوں کی پروا نہیں کیا کرتے کیونکہ ان کا بھروسہ اللہ پر ہوتا ہے دنیوی سامانوں پر نہیں ہوتا بہر حال ایک قبیلہ ہجرت کر کے مدینہ منورہ آیا تو ان کے آباد کرنے کے لئے مال کی ضرورت تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو مالی قربانیاں پیش کرنے کی تلقین کی آپ کی اس اپیل کے نتیجہ میں ہر شخص نے یہ سوچا کہ میرے پاس جو چیز زائد اور فاضل ہے وہ میں لا کر پیش کر دوں