خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 343
خطبات ناصر جلد دوم ۳۴۳ خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۶۸ء یہ احساس تھا اور ان کی روح میں یہ تڑپ تھی کہ وہ الْفُقَرَآءُ إِلَى اللهِ ہیں نہ ان کی کوئی مادی ضرورت پوری ہو سکتی ہے اور نہ روحانی جب تک کہ اللہ تعالیٰ ان کی ضرورت کو پورا نہ کرے غرض جس سے ہم نے ہر شئی کو حاصل کرنا ہے اس کی رضا کے حصول کے لئے پانچ روپیہ یا پانچ لاکھ روپیہ قربان نہیں کیا جا سکتا؟ میں نے صحابہ کی ایک مثال دی ہے کہ جس کے پاس دو جوڑے کپڑے تھے اس نے ایک جوڑا کپڑے پیش کر دیے تفصیل تو نہیں ملتی لیکن یہ امکان ہے کہ ان میں سے کسی کو اس قربانی کی توفیق ملی ہو اور اس کے بعد وہ مثلاً فوت ہو گیا ہوا اور مزید قربانی کا اسے موقع نہ ملا ہوا سے تو اس قربانی کے نتیجہ میں اُخروی انعامات مل گئے لیکن اس کی اولا دکو اس ایک جوڑے کپڑوں کے نتیجہ میں اتنے اموال دیئے گئے کہ اگر وہ چاہتے تو اس قسم کے ایک ہزار جوڑے بنا لیتے۔پس ہم خدا تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ہم فقیر ہیں۔خدا تعالیٰ ہمارا محتاج نہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بڑی پیاری بات کہی ہے جو قرآن کریم نے بھی نقل کی ہے اور وہ یہ ہے کہ ربّ انّى لِمَا اَنْزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ (القصص: ۲۵) کہ ہر چیز کی مجھے احتیاج ہے جو بھلائی بھی تیری طرف سے آئے میں اس کا محتاج ہوں ، میں اسے اپنے زور سے حاصل نہیں کر سکتا جب تک تو مجھے نہ دے وہ مجھے نہیں مل سکتی غرض حقیقی خیر چاہے دنیوی ہو یا اُخروی وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر نہیں ملا کرتی ویسے اللہ تعالیٰ کتوں کو بھی بھوکا نہیں مار رہا ،سور بھی اس کی بعض صفات کے جلوے دیکھتے ہیں ان کو بھی خوراک مل رہی ہے اور ان کی (مثلاً بیماریوں سے ) حفاظت بھی ہو رہی ہے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی زمانہ میں وبا کے طور پر اس قسم کے جانوروں کو ہلاک کر دے جس طرح وہ بعض دفعہ انسان کی بعض گناہگار نسلوں کو فنا کر دیتا ہے لیکن جو سلوک ان جانوروں سے ہو رہا ہے وہ اس سلوک سے بڑا مختلف ہے جو انسان سے ہو رہا ہے اور جو سلوک ایک کتے سے ہو رہا ہے جو سلوک ایک سؤر سے ہو رہا ہے جو سلوک ایک گھوڑے یا بیل یا پرندوں سے ہو رہا ہے اس کے مقابلہ میں جو سلوک ایک انسان سے ہو رہا ہے اس کو ہم خیر کہہ سکتے ہیں۔باقی عام سلوک ہے گو ایک لحاظ سے وہ بھی خیر ہے لیکن صحیح اور حقیقی معنی میں وہ خیر نہیں اور انسان خیر کا محتاج ہے اگر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر نہ ملے بلکہ اس سے