خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 274 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 274

خطبات ناصر جلد دوم ۲۷۴ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء تھوڑی سی غفلت یا بے پرواہی یا بد پرہیزی جو ہے اس سے بیماری کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تو اب شکر کا جو نظام ہے وہ زیادہ سے زیادہ حد کے اوپر کھڑا ہے دعا کریں میں بھی دعا کر رہا ہوں اللہ تعالیٰ فضل کرے اور یہ ان حدود سے کافی نیچے آجائے تا کہ انسان جو غفلت کا پتلا ہے بے پرواہی کے نتیجہ میں اس حد کو پار کر کے بیماری کی حدود میں داخل نہ ہو اللہ ہی فضل کرنے والا اور شفا دینے والا ہے ایک لمبا عرصہ اپنے حالات کے مطابق ایک لمبا عرصہ کئی ہفتے مجھے کراچی میں ٹھہرنا پڑا ہے آپ دوستوں سے ملنے کا زیادہ اتفاق ہوا ہم نے باتیں کیں ملے، بہت ساروں کے دکھ اور درد سُنے ان کے دُور کرنے کی کوشش کی ویسے تو ایک تعلق جماعت کے ساتھ خلیفہ وقت کو ہوتا ہے لیکن جماعت کا وہ حصہ جو زیادہ وقت تک ساتھ رہے یا جن کے ساتھ کچھ ہفتے گزارنے پڑیں ان کے ساتھ ایک خاص لگاؤ ہو جاتا ہے انشاء اللہ کل چناب ایکسپریس سے ہماری واپسی ہے لیکن جہاں اس خیال سے کہ بہت سے کام رکے ہوئے ہیں اور ربوہ واپس جانا ضروری ہے ربوہ جانے کی خواہش بھی بڑی ہے اور آپ سے جدا ہونے کی اداسی بھی دل محسوس کر رہا ہے تو اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی رحمتوں سے نوازتار ہے اور آپ اس کے فضلوں کے ہمیشہ وارث بنیں اور ان راہوں پر آپ کو چلنے کی توفیق ملے جو راہ کہ اس کی رحمت کے دروازے کھولتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کے متعلق ہی میں خطبات دے رہا ہوں اور آج خدا تعالیٰ کی توفیق سے اس نے چاہا تو اس مضمون کو ختم کرنا چاہتا ہوں میں نے بتایا تھا کہ یہ آیت جس کی تفسیر میں بیان کر رہا ہوں سورۃ احزاب کی ہے اور میں نے جب غور کیا کہ سورۃ احزاب میں ہی اللہ تعالیٰ کو یہ بھی بتانا چاہیے ہماری رہنمائی کے لئے کیونکہ انسان اپنے طور پر تو کچھ حاصل نہیں کر سکتا جب تک خدا ہمیں علم نہ دے انسان خودنور سے اپنی نیکی کی اور راستبازی کی سیدھی راہوں کو منور نہیں کر سکتا جب تک اللہ تعالیٰ اس کو توفیق نہ دے تو سورۃ احزاب میں بھی اللہ تعالیٰ نے ضروران راہوں کی نشاندہی کی ہوگی جو را ہیں اس کی رحمت کے دروازوں تک لے جاتی ہیں اور جو مجاہدہ خدا کو جب مقبول ہو جائے تو رحمت کے دروازے ایسے شخص یا اشخاص یا گروہ کے لئے کھولے جاتے ہیں آج میں سورۃ احزاب کی ہی ایک آیت کو بنیادی نکتہ بنا کر ایک بنیادی اصل کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے