خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 273 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 273

خطبات ناصر جلد دوم ۲۷۳ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کھولے جائیں گے خطبه جمعه فرموده ۶ رستمبر ۱۹۶۸ء بمقام احمد یہ ہال۔کراچی تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد ذیل کی آیات تلاوت فرمائیں۔قُلْ مَنْ ذَا الَّذِي يَعْصِمُكُمْ مِنَ اللهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوءًا أَوْ أَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً ۖ وَلَا يَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا۔(الاحزاب: ۱۸) لِيُعَذِّبَ اللهُ الْمُنْفِقِينَ وَالْمُنْفِقْتِ وَالْمُشْرِكِينَ وَالْمُشْرِكْتِ وَ يَتُوبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ 1991 وَالْمُؤْمِنَتِ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا - (الاحزاب: ۷۴) اللہ تعالیٰ نے ہماری دعاؤں کو سنا اور اپنی رحمت اور فضل سے میری بیماری کو دور فرمایا الْحَمْدُ لِلهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلهِ۔لیکن شکر (Sugar ) کی کیفیت اپنی حد پر آ کر ٹھہر گئی ہے اور حد پر آکر ٹھہر جانا خطر ناک ہوتا ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سی حدود مقرر کی ہیں اور فرمایا کہ تم حد سے قریب بھی نہ جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ غلطی یا غفلت کے نتیجہ میں حدود سے باہر ہو جاؤ اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والے بن جاؤ۔اسی طرح انسان کے جو مختلف میکنیزم (Mechanism) ہیں ان میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ معمول کی کیفیت پائی جاتی ہے اگر اس نظام کی یہ حالت ہو کہ وہ اپنے Maximum پر زیادہ سے زیادہ کھڑا ہوا ہو تو