خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 275 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 275

خطبات ناصر جلد دوم ۲۷۵ خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۶۸ء کہ تفاصیل تو قرآن کریم میں بہت ہیں قرآن کریم نے اپنی رحمت کے دروازے کھلوانے کے لئے ہمیں کئی سورا ہیں بتائی ہیں ان راہوں پر چلنا بڑا ضروری ہے قرآن کریم میں جو بھی نیکیوں کے طریق بتائے گئے ہیں جو بھی مجاہدات کے راستے ہمیں دکھائے گئے ہیں ان سب پر چلنا ضروری ہے اس لئے قرآن کریم نے اصولی طور پر ہمیں ہدایت دی کہ اگر ایمان کے تقاضوں کو پورا کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے کھولے جائیں گے۔یہ بنیادی اور اصولی چیز ہے، باقی تمام فروعات ہیں اسی ایک بنیادی چیز کی۔اللہ تعالیٰ سورۃ احزاب میں فرماتا ہے کہ اس شریعت کو اس لئے نازل کیا گیا ہے کہ جہاں منافق اور منافقات اور مشرک اور مشرکات کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے سوء کا حکم جاری ہود کھ اور عذاب اور تکلیف اور پریشانی کا حکم جاری ہو وہاں وَ يَتُوبَ اللهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنتِ یعنی یہ شریعت اور یہ حقیقت جو شریعت کے نظریے کی غرض ہے اس لئے نازل کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لئے رحمتوں کے سامان پیدا کئے گئے ہیں وَ كَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا اور جو شخص تو بہ کرتا ہے اور جو شخص ایمان پر پختگی کے ساتھ قائم ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی ان دو صفات کے جلوے ظاہر ہوتے ہیں ایک تو اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے اور مغفرت کی چادر میں خدائے غفورا سے لپیٹ لیتا ہے دوسرے اس کے مجاہدات قبولیت کا درجہ حاصل کرتے ہیں اور خدائے رحیم اپنی رحمت کی چادر میں ایسے شخص اور وجودوں پر نازل کرنا شروع کر دیتا ہے اس کو زیادہ وضاحت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں بیان کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ وَ يَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا (النساء: ۱۷۶) کہ وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور ایمان کے تمام تقاضوں کو پورا کر کے اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ اللہ کی رحمتوں کے ذریعہ شیطانی حملوں سے اپنا بچاؤ کریں تو یہ لوگ ہیں سَیدُ خِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت اور اپنے فضل کی جنتوں میں داخل کرے گا اور اس کا طریق یہ ہوگا وہ يَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا۔جو راہیں سیدھی اللہ کی طرف لے جانے والی ہیں ان راہوں کو ان لوگوں کے لئے منور کیا جائے گا ان کی طرف ان کی رہنمائی کی جائے گی تو سچی اور حقیقی اور اصولی بات یہی