خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 259 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 259

خطبات ناصر جلد دوم ۲۵۹ خطبه جمعه ۲۳ راگست ۱۹۶۸ء پھر میں نے اس سے کہا کہ یہ ایک مثال ہے اور تمہیں سمجھانے کے لئے۔مثال بھی ایک عورت کی ہے تم ساری عیسائی دنیا میں کوئی ایک مثال اس قسم کی ہمیں دکھا دو تو ہم کہیں گے کہ تمہارے پاس بھی کوئی چیز ہے تو ایک ایسے مسلمان کی زندگی میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرنے والا اور آپ کے نمونہ کے مطابق اپنی زندگی کو بتانے والا ہے صحیح اور سچی نجات کے آثار ظاہر ہونے لگ جاتے ہیں اور یہ تسکین یہ مسرت یہ سکونِ قلب یہ نور فراست یہ محبت کے جلوے جو وہ اپنی زندگی میں دیکھتا ہے یہی ہیں جو اس کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فدائی بنا دیتے ہیں۔ہمارا رسول کس قدر بزرگ ہے کہ جس کی اطاعت سے جس کی دس دن کی پیروی سے وہ آسمانی برکات ملتی ہیں کہ جو ہزاروں برس کی دوسرے مذاہب کی پیروی سے انسان کو نہیں مل سکتیں یہ محض دعویٰ نہیں جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ایک مثال اس عیسائی عورت کو دی تھی آج بھی میں نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے بغیر تفصیل میں جانے کے لیکن حقیقت یہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھنا آپ کے اسوہ پر چلنا یہ نہیں کہ صرف محبت کا دعوی ہو محبت بڑی قربانی چاہتی ہے دیکھو چھوٹی چھوٹی محبتیں قربانی چاہتی ہیں ایک ماں اپنے بچے سے پیار کرتی ہے بچہ بیمار ہو جائے تو وہ سونہیں سکتی سرہانے بیٹھی رہتی ہے یہ ایک چھوٹی سی محبت ایک ماں کی اپنے بچوں میں سے ایک بچے کی محبت جس کا مظاہرہ ہورہا ہے اس کے معاوضہ میں اس ماں نے کیا لینا ہے صرف یہ تسکی کہ شاید یہ بچہ جو ہے اس سے میں بھی کسی وقت آرام پاؤں گی۔یہ خواہشات ہمیشہ پوری نہیں ہوا کرتیں بعض خاندانوں میں یہ پوری ہو جاتی ہیں بعض میں پوری نہیں ہوتیں لیکن یہاں تو ایک یقینی چیز ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس کا نتیجہ ہماری زندگی میں ظاہر ہوتا ہے ہم جو محبت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہیں اس محبت کے نتیجہ میں قرآن کریم کے وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی محبت کے جلوے ہم دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔پھر حقیقی محبت اور سچا تعلق ہمیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے خدا سے جو زندہ طاقتوں والا خدا ہے پیدا ہو جاتا ہے۔تو لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہ جو شخص یہ خواہش رکھتا ہو کہ اس کے