خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 260
خطبات ناصر جلد دوم ۲۶۰ خطبه جمعه ۲۳ /اگست ۱۹۶۸ء اندر ایک ایسی تبدیلی ہو جائے کہ اس کے لئے اسی دنیا میں نجات کے آثار نمایاں ہونے شروع ہو جائیں اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آجائے آپ کی محبت میں فنا ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔” جو شخص اپنی نجات چاہتا ہے وہ اس نبی سے ( یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے غلامی کی نسبت پیدا کرے یعنی اس کے حکم سے باہر نہ جائے اور اس کے دامن اطاعت سے اپنے تئیں وابستہ جانے جیسا کہ غلام جانتا ہے تب وہ نجات پائے گا۔اور جب وہ نجات پا جائے گا تو اس کے آثار کیا ظاہر ہوں گے اس زندگی میں ایک پاک زندگی ایسے لوگوں کو عطا کی جائے گی اور نفسانی جذبات کی تنگ و تاریک قبروں سے وہ نکالے جائیں گے۔“ ایک اور معنی لِمَنْ كَانَ يَرْجُوا اللہ کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ حقیقی زندگی اور حقیقی حیات ہے اور وہ الحی ہے وہ زندہ ہے کسی کی احتیاج کے بغیر اور ہر دوسری چیز جو ہے اس کی زندگی اللہ تعالیٰ کے منشا اور اس کے ارادے اور اس کے حکم کی احتیاج رکھتی ہے تو جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس زندہ خدا جو زندہ طاقتوں والا اور زندہ قدرتوں والا خدا ہے اس سے اس کا تعلق قائم ہو تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اسے بھی روحانی زندگی مل جائے کیونکہ زندہ کا تو زندہ سے تعلق قائم ہوجاتا ہے لیکن زندہ کے ساتھ مردہ کا تعلق ہمارے تصور میں نہیں آتا یہ شخص اگر روحانی زندگی چاہتا ہے تو اس کے لئے ایک ہی در ہے وہاں وہ جا کر اطاعت کے اُسوہ کی پیروی کی بھیک مانگے اور وہاں جا کے اپنی جبین نیاز جھکائے اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرے کہ اے خدا تو زندہ طاقتوں والا اور زندہ قدرتوں والا خدا ہے اوراے میرے رب ! تو نے ہمارے اس محسن کو بھی ایک ابدی زندگی عطا کر کے اس دنیا میں مبعوث کیا ہے جس کے فیض کبھی ختم نہیں ہوتے اور ہمیشہ کے لئے جاری ہیں ہم جانتے ہیں کہ جب تک ہم روحانی طور پر مردہ رہے ہم تیرے ساتھ زندہ تعلق تو قائم نہیں کر سکتے اس نبی کے طفیل ہی یہ فیض حاصل ہو سکتا ہے اس کے بغیر تو حاصل نہیں ہوسکتا۔پس اے ہمارے رب ! ہم کو یہ طاقت بخش اور توفیق عطا کر کہ ہم تیرے اس نبی کی اتباع ایسے رنگ میں کر سکیں جس رنگ میں تو