خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 258
خطبات ناصر جلد دوم ۲۵۸ خطبه جمعه ۲۳ راگست ۱۹۶۸ء سے نجات پا کر حق الیقین کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور نجات کے آثار اسی شخص کے لئے نمایاں ہوتے ہیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتا ہے آپ کی سنت کی اتباع کرتا ہے یہ محض ایک دعوی ہی نہیں بلکہ اس دعویٰ کے ثبوت کے لئے ایک تو ماضی کے شواہد ہیں حال کے آثار ہیں اور مستقبل کے چیلنج ہیں جو جماعت احمدیہ کی طرف سے ہر اس غیر مذہب ، ہر اس شخص کے سامنے رکھے گئے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر نجات حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے یا ایسا کرنے کا دعویٰ کرتا ہے کہ اگر واقع میں تم اسلام سے باہر رہ کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کے بغیر نجات حاصل کر سکتے ہو تو نجات کے کچھ آثار بھی تو ظاہر ہونے چاہیں ان میں ہمارا مقابلہ کر لو اگر اس دنیا میں تمہیں یہ نجات حاصل نہیں نہ اس کے کوئی آثار دکھا سکتے ہو اگر اس دنیا میں ایک سچے مسلمان کو نجات حاصل ہو سکتی ہے اور اس کے آثار اس کی زندگی میں پائے جاتے ہیں ا تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ وہ مذہب یعنی اسلام جس کی پیروی سے اور وہ رسول جس میں فنا ہو کر جس کے اُسوہ کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر نجات کے یہ آثار ہماری زندگی میں نمایاں ہوتے ہیں وہی سچا رسول ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جا سکتا ہے۔میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ ھڈ رز فیلڈ ( انگلستان) میں جماعت کے پریذیڈنٹ نے ( جو بڑے مخلص تھے چند دن ہوئے اچانک وفات پاگئے ہیں اللہ ان کے درجات بلند کرے) ایک پریس کانفرنس کا بھی انتظام کیا تھا اور غیر مسلموں کو بھی مدعو کیا تھا وہاں ایک سوشل ورکر ادھیڑ عمر کی انگریز عورت نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ ایک سچے عیسائی اور ایک سچے مسلمان میں کیا فرق ہے؟ میں خوش ہوا کہ اس نے عیسائی اور مسلمان کے فرق کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ بچے کی زیادتی کی ہے میں نے اس کا سوال دہرایا کہ تم مجھ سے ایک سچے عیسائی اور سچے مسلمان کے مابین کا فرق دریافت کر رہی ہو اس نے کہا کہ ہاں آپ ٹھیک سمجھے ہیں تو میں نے اس کو جواب دیا کہ تم ایک عورت ہو میں ایک عورت کی ہی مثال دیتا ہوں میں نے اپنی ایک احمدی بہن کی مثال دی تھی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اپنے رب کی محبت کو کچھ اس طرح پایا تھا کہ ایک ہی رات میں اسے تین بار اللہ تعالیٰ نے خبر دی اور وہ دعا میں مشغول رہی جب تک کہ اس کے دل کو تسلی نہیں ہوگئی۔"