خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 132
خطبات ناصر جلد دوم ۱۳۲ خطبہ جمعہ ۲۶ /اپریل ۱۹۶۸ء سکتا ہے لیکن جب ہمارا رب کسی کو کسی مقام پر کھڑا کرتا ہے تو وہ تمام چیز میں اسے دیتا ہے جو اس مقام کو چاہئیں ہوں۔تو آج بطور جنّة کے بطور ڈھال کے میرا یہ فرض ہے کہ میں آپ کو شیطانی وساوس سے بچاؤں اور اسی لئے اس اعتراض کا یہاں میں نے ذکر کیا ہے اگر کوئی شخص آپ میں سے کسی کے پاس آکر یہ کہے کہ یہ بدعہ شنیعہ ہے یعنی ایسی بدعت ہے جو بُری ہے ایسی بدعت ہے کہ خدا تعالیٰ کا نام اور اس کی تسبیح اور اس کی تحمید اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود جو پہلے نہیں بھیجا کرتے تھے اب بھیجنے لگ گئے ہیں بہت بڑی بات ہے تو آپ اس کی بات نہ سنیں۔شیطان نے اس کے دل پر اور اس کی زبان پر اور اس کے ذہن اور دماغ پر وار کیا ہے اور وہ کامیاب ہوا۔آپ اس سے بچنے کی کوشش کریں اور ایسے شخص کو قابل رحم سمجھیں اور اس کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کے سینے کو ہدایت کے لئے کھولے اور اس کی زبان کو ایسا بنائے کہ وہ اس کے ذکر میں مشغول ہو اور اس کے ذکر پر اعتراض کرنے والی نہ ہو۔یہ آپ پر اس صورت میں فرض عائد ہوتا ہے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معین تعداد میں بعض لوگوں کو درود پڑھنے کے لئے تسبیح وتحمید پڑھنے کے لئے درود تو نہیں میرے ذہن پر لیکن تسبیح اور تحمید پڑھنے کے لئے اور اس کی کبریائی کے بیان کے لئے خود معین تعداد میں حکم دیا۔اسی سنت کی اقتدا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے چو ہدری رستم علی صاحب کو لکھا کہ ”اگر تین سو مرتبہ درود شریف کا ورد مقر ر رکھیں تو بہتر ہوگا“ تو تین سو مرتبہ کی تعیین کر دی۔اصل اعتراض تو تعیین کا ہی تھا نا ؟؟ تو یہ اعتراض مجھ سے آگے بڑھ کے نشانہ خطا گیا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر جا پڑتا ہے۔اسی طرح سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں۔”میرے نزدیک بہتر ہے کہ آپ بھی اس تشویش کے وقت اکیس مرتبہ کم از کم استغفار اور سومرتبہ درود شریف پڑھ کر اپنے لئے دعا کیا کریں۔“