خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 131
خطبات ناصر جلد دوم ۱۳۱ خطبہ جمعہ ۲۶ را پریل ۱۹۶۸ء غربا کو ایمان میں آگے بڑھنے اور ثواب زیادہ حاصل کرنے کے لئے ایک نسخہ بتایا تھا وہ معین تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی سنت یہ ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جو امام بخاری نے اپنی ایک کتاب میں بیان کی ہے کہ آپ نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو انگلیوں پر کلمات پڑھتے دیکھا اور گنتی کرتے جاتے تھے انگلیوں پر ، اس سے واضح ہوتا ہے کہ بعض ذکر ایسے ہیں کہ جن کو گنے میں کوئی برائی نہیں بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے میں سمجھتا ہوں کہ ہر انسان کو ذکر کے بعض حصے انگلیوں پر گن لینے چاہئیں تا کہ اس طرح بھی آپ کے ساتھ ہمارے پیار کا اظہار ہو تو اگر بعض ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی گن کے کئے ہیں تو گنتی پر اعتراض نہیں ہو سکتا یہ اعتراض تو پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑے گا !!! ایک دفعہ جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار تھے نگران بورڈ کے نام سے ایک مجلس قائم تھی وہیں ذکر ہوا اور مرزا عبدالحق صاحب اور دیگر احباب نے کہا کہ آپ یہ تحریک کریں۔تین سو بارتھی غالباً وہ تحریک اور ساری جماعت کے لئے نہیں تھی اس وقت بھی بعض کمزوروں کے دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہوا تھا کہ یہ بدعت شنیعہ ہے یعنی ایسے لوگوں کا درود پڑھنا معینہ تعداد میں جو پہلے اس تعداد میں درود نہیں پڑھا کرتے تھے یہ بدعت شنیعہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر زیادہ درود بھیجا جارہا ہے یہ کمزوری ایمان کی علامت تھی اور ہم اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے خلیفہ وقت کی ڈھال کے پیچھے پناہ لئے بیٹھے تھے۔ایسے معترضین کو جرات نہیں ہوئی کہ حضور کے سامنے یہ اعتراض پیش کر کے اپنی اصلاح کا سامان پیدا کرتے۔بہر حال ہم اس پناہ کے نیچے تھے اب اللہ تعالیٰ نے مجھے آپ کے لئے بطور پناہ کے مقرر کیا ہے اور اس میں میری کوئی خوبی نہیں جب اس نے کہا کہ میں تجھے مجنّة بناتا ہوں جماعت کے لئے تو ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ جنَّة بننے کے لئے جس قسم کی طاقتیں تجھے چاہئیں ہوں وہ میری طرف سے عطا کی جائیں گی کیونکہ خدا تعالیٰ کے کام ان کمزور انسانوں کی طرح نہیں ہوتے یا ان پاگلوں کی طرح جو بعض دفعہ کہہ دیتے ہیں کہ ”جا، اسان تینوں بادشاہ بنایا ان میں نہ کوئی بات ہوتی ہے اور نہ کوئی بادشاہ بنانے کی طاقت ہوتی ہے ایسے شخص میں۔نہ بادشاہ بنا سکتا ہے۔نہ کچھ دے