خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 894
خطبات ناصر جلد اول ۸۹۴ خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء ہوئی تو اس نے بیعت کر لی۔اگلے دن وہ مجھے ملنے آیا کسی نے کہہ دیا کہ اس نے کل پہلی دفعہ بیعت کی ہے۔اس نے رونا شروع کر دیا اس کا رونا بند ہی نہ ہوا۔میں نے اسے گلے سے لگا یا کئی منٹ تک اس کو تھپکی دیتا رہا۔تب اس نے تھوڑ اسا اپنے نفس پر قابو پایا۔تو اندر کوئی چیز چھپی ہوئی تھی جس کو کسی شیطانی و ہم نے دبایا ہوا تھا میرے جانے سے وہ شیطان بھاگ گیا اور اندرونی حسن جو تھا وہ ظاہر ہو گیا۔اتنا پیار انہوں نے مجھے دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھ سے بھی لیا ہے۔میں تو سمجھتا ہوں کہ میری یہ ڈیوٹی ہے اور آپ لوگوں کا احسان ہے۔میں اپنے فرض کو پورا کرتا ہوں آپ مجھ پر احسان کرتے چلے جاتے ہیں۔پہلے بھی میں نے کئی دفعہ بتایا ہے وہ تصویر میں مرتے دم تک نہیں بھول سکتا۔ایک چھوٹا بچہ تھا جو میرے پہلو میں کھڑا تھا جب ہم آ رہے تھے۔تو دعا ہوئی۔بہت عاجزی اور تضرع سے ہوئی اس کے بعد میں چند منٹ تک سر نیچا کر کے کھڑا رہا اپنی طبیعت پر قابو پانا چاہتا تھا اس کے بعد سر اٹھایا، سلام کیا۔بعض جولوگ قریب تھے وہ مجھ سے تحفہ چاہتے تھے۔انہیں تحفے بھی دیئے۔جو میری جیب میں تھا نکال کے دیتا چلا گیا۔کئی منٹ کے بعد اچانک میری نظر پڑی تو ایک بچہ معصوم بارہ تیرہ سال کا رو ر ہا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک رہے تھے۔تو یہ محبت میں نہیں پیدا کر سکتا تھا ، نہ آپ پیدا کر سکتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے تصرف سے پیدا ہوتی ہے یہ اس کا بڑا عظیم احسان ہے۔اللہ تعالٰی نے اس جماعت کو اپنے فضلوں سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفۃ امسیح الاول ( جن کو معترضین نے بڑے دکھ پہنچائے تھے ) اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی دعاؤں کے نتیجہ میں اتحاد کا ایک ایسا مظاہرہ کرنے کی توفیق دی ہے جو دشمن کو حیرت میں ڈالنے والا اور اس کے حسد کو اور شدید کرنے والا ہے وہ پریشان ہو گئے کہ یہ کیا ہو گیا ہم تو سمجھتے تھے کہ کچھ نہ کچھ فتنہ ضرور پیدا ہو گا۔لیکن صفر۔سوائے نفاق کے فتنہ کے جو ہمارے ساتھ ہمیشہ لگا رہے گا۔جس چیز نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اسلام کو نہیں چھوڑ اوہ آج ہمیں کیسے چھوڑ دے گی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کے تو کوئی شخص قوت قدسی کا مالک اور حامل نہیں ہو سکتا۔آپ کے ساتھ بھی منافق لگے ہوئے تھے۔