خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 893 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 893

خطبات ناصر جلد اول ۸۹۳ خطبہ جمعہ ۱۵ ستمبر ۱۹۶۷ء انہوں نے امام صاحب کو بھی نہیں بتایا۔چہرہ پر بھی کوئی آثار ظاہر نہیں ہوئے تھے کہ والد فوت ہو گیا ہے۔لیکن اب ان کا یہ حال تھا کہ دن میں دو تین مرتبہ ان کی آنکھیں پرنم ہو جاتیں۔ہمارے ناروے کے ایک مبلغ ہیں وہ مجھے ملنے آئے۔ان سے بات نہ کی جائے۔ان کے جسم پر رعشہ طاری تھا اور وہ کانپ رہے تھے۔زبان ان کی چل نہ رہی تھی میں نے انہیں اِدھر اُدھر کی باتوں میں لگا کے یہ کوشش کی کہ وہ اپنے نفس پر قابو پالیں۔وہ اپنی بیوی اور بچی کا نام رکھوانا چاہتے تھے۔بیوی کا نام میں نے محمودہ رکھا اور بچی کا نام میں نے نصرت جہاں “ رکھا۔جس سے وہ بہت خوش ہوئے اور میں نے سمجھا کہ اب یہ اپنے قابو میں آگئے ہیں۔لیکن اس کے بعد پھر ہونٹ ہلنا شروع ہوئے اور صرف اتنا کہا کہ جو دل میں ہے وہ زبان پر نہیں آسکتا اور بڑی مشکل سے اپنا رونا روکا۔پھر وہ کھڑے ہوئے میں نے انہیں گلے لگالیا۔اس کے بعد وہ چلے گئے۔یہ ان کی حالت تھی !!! تو ان کے بعض ایسے روحانی اور اخلاقی اور قوت کے ساتھ تعلق رکھنے والے حسن تھے جو دنیا کو نظر نہیں آئے تھے۔میرے اس سفر سے ان کی وہ چیزیں ابھر آئیں۔عجیب قوم پیدا ہوگئی ہے۔آپ کے لئے قابل رشک ہے۔یہاں بھی جو قابل رشک ہیں ہمارے لئے ہمارے بزرگ، ان کے پہلو بہ پہلو وہ کھڑے ہوئے ہیں ہر قسم کی قربانی کرتے ہیں ، ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہیں۔پھر انگلستان میں کئی ہزار ہمارا احمدی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے، بڑی بھاری اکثریت ایسی ہے۔جو اُردو بولنے والی ہے۔میرا یہ مضمون تو انگریزی میں تھا ریسپشن پر۔لیکن جلسہ سالانہ میں میں ان سے اُردو میں بات کرنا چاہتا تھا کیونکہ ان میں سے عام طبقہ مزدور پیشہ ہے۔تو علمی زبان میں ان کے لئے سمجھنا مشکل ہے ان میں عورتیں بھی تھیں۔بہر حال میرا یہ فیصلہ تھا کہ میں اردو میں بات کروں گا اور ۸ رنومبر ۶۵ ء کے واقعات سے شروع کروں گا۔چنانچہ میں بھی جذباتی ہوا ہوا تھا وہ بھی جذباتی ہوئے ہوئے تھے۔ان کو سارے حالات بتائے گئے۔ایک نوجوان ایسا تھا جس نے ابھی تک بیعت نہ کی تھی اور پتہ نہیں کیوں ؟ واللہ اعلم۔جب جلسے کے اوپر وہاں اجتماعی بیعت