خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 895 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 895

خطبات ناصر جلد اوّل ۸۹۵ خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء ہمارے ساتھ بھی لگے ہوئے ہیں لیکن اس استثناء کے علاوہ ساری جماعت متحد ہوگئی ہے ایک معجزہ ہے، جو ہماری تاریخ میں لکھا جائے گا اور دنیا قیامت تک اس پہ رشک کرے گی ، یہی میں نے بتایا تھا۔ان دنوں ہزارہا کی تعداد میں خطوط آتے تھے اور دنیا کے ہر ملک اور ہر گوشہ اور قریباً ہر قوم کے لوگوں کی طرف سے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ خطوط و یا ایک کلاس میں ڈیکٹیٹ کرائے گئے ہیں۔تین جذ بات ہر خط میں پائے جاتے تھے۔انتہائی صدمہ نمبر ایک۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی وفات پر گویا ایک قیامت آگئی۔انتہائی فکر نمبر دو کہ معلوم نہیں جماعت کیا کرے گی کوئی غلطی نہ کر بیٹھے۔انتہائی شکر کے جذ بات اللہ تعالیٰ کے لئے نمبر تین کہ جماعت ایک ہاتھ پر پھر متحد ہوگئی۔یہ تین جذبات ہر ایک خط میں پائے جاتے تھے۔خواہ وہ نجی سے لکھا ہوا ہو جنوبی امریکہ سے آنے والا ہو۔کسی کی زبان انگریزی، کسی کی انڈونیشین، کسی کی جرمن اور کسی کی سویس اور کسی کی سواحیلی۔بیسیوں زبانوں میں وہ خط تھے اور تین باتیں ہر خط میں پائی جاتی تھیں جس سے یہ نتیجہ نکلا کہ وہ جو ساری دنیا کا استاد ہے۔اس نے سب کو ڈیکٹیٹ کرایا تھا۔اللہ ! تو یہ معجزہ بھی ہم نے دیکھا اور وہاں بھی نئے سرے سے ان نئے نئے لوگوں میں گئے اور ان جماعتوں سے میرے پاس خط آتے ہیں پیار کے، شکریہ کے، کہ آپ نے بڑا احسان کیا کہ یہاں آگئے ہیں۔جماعت کے اندر ایک بیداری اور ایک روح پیدا ہو گئی ہے۔جو پیچھے ہٹے ہوئے تھے ذاتی رنجشوں کی بنا پر یعنی یوں مخلص تھے سب کچھ تھا۔پیچھے ہٹے ہوئے تھے۔بعض کے دلوں میں یہ تھا ( اور ایک دو آدمی ہی ایسے تھے جو سمجھتے تھے ) کہ میں ان سے ناراض ہوں اور ان کو یہ پتہ نہیں تھا یہ علم نہیں تھا کہ میرے دل کی تختی تو ۸ / نومبر کو اللہ تعالیٰ نے صاف کر دی تھی۔اب ان کو پتہ چلا تو وہ ان کے لئے حیرت کا باعث بھی تھا اور خوشی کا باعث بھی۔جو کبھی مسجد میں نہیں آتے تھے امام رفیق سے لڑے ہوئے تھے میرے ساتھ گلہ وشکوہ، رات کے دو دو بجے تک مسجد میں بیٹھے رہتے تھے۔ایک شخص نے خوب لکھا ہے اپنے متعلق ( میں اس کا نام بیان کرنا نہیں چاہتا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس میں بھی ایک انقلاب عظیم پیدا ہو گیا ہے۔وہ چھ مہینہ سے خود گیا نہیں تھا۔ان کے ساتھ بھی تھا ان کو پتہ بھی تھا ان کے ساتھ بیٹھتا بھی تھا رات کو ، بچوں کو ساتھ