خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 877
خطبات ناصر جلد اول ALL خطبہ جمعہ ۱۵ رستمبر ۱۹۶۷ء کرتے تھے ( باتیں کرنے کے بعد ) حالانکہ چاہیے تو ان کو یہ تھا کہ وہ ایسی باتوں کا انتخاب کرتے جوان کے نزدیک T۔V دیکھنے والوں پر اثر انداز نہ ہو سکتیں اس کی تفصیل میں T۔V کے ذکر میں بیان کروں گا۔انشاء اللہ پریس، جو وہاں بڑا آزاد پریس ہے وہ بادشاہوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا ،لکھ دیتے ہیں جو دل میں آئے تعصب کا یہ عالم کہ ہمارے مبلغ ڈررہے ہیں کہ پتہ نہیں کیا ہوگا پر یس کا نفرنس ہی نہ بلائی جائے وہ آتے ہیں سوال کرتے ہیں ایک آدھ دفعہ تقریباً ہر جگہ سیاست کے متعلق وہ ضرور سوال کرتے میں ان کو آرام سے کہہ دیتا تھا کہ میں تو سیاسی آدمی نہیں ہوں میں مذہبی آدمی ہوں مجھ سے مذہب کے متعلق جو چاہو سوال کرو پھر ہماری مذہبی گفتگو ہوتی رہتی تھی جو باتیں میں کہہ رہا تھا وہ ان کے عقیدہ کے خلاف اور جو ان کی کمزور اور ظلمت کی زندگی گزارنے والی عقلیں ہیں وہ ان عقلوں کے خلاف اور جو بات میں کہتا تھا باوجود اس کے کہ ان کے عقائد یا ان کی سمجھ کے خلاف ہوتی تھی وہ اخبار میں شائع کر دیتے ایسا تصرف الہی تھا۔سویٹزر لینڈ میں ہمارے باجوہ صاحب نے بتایا کہ ایک اخبار ہے وہ تعلیم یافتہ لوگوں کا اخبار سمجھا جاتا ہے، اشاعت کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے، لیکن تمام تعلیم یافتہ لوگ اس کو لیتے ہیں مزدور اس کو نہیں پڑھتے بڑے پایہ کا اخبار ہے اور بڑا متعصب، ہمیشہ اسلام کے خلاف لکھتا ہے جب میں تردیدی خط لکھوں تو انکار کر دیتا ہے ایک لفظ نہیں لکھتا نہ تر دید میں اور نہ اسلام کے حق میں تو پتہ نہیں اس کا نمائندہ آئے یا نہ آئے ، اگر آئے تو پتہ نہیں وہ کچھ لکھتا بھی ہے، یا نہیں پھر اس کا جو نمائندہ آیا اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر تصرف کیا اور اس نے خاص دلچسپی لی پہلے سے ہی اس کے دل میں ڈالا گیا تھا کہ تم نے اس میں دلچسپی لینی ہے۔چنانچہ وہ اکیلا نہیں آیا بلکہ اپنی سٹینو کو ساتھ لے کے آیا یوں تو مجھے پتہ نہیں چلا لیکن بعد میں جو تصویریں آئی ہیں ان سے پتہ چلا کہ وہ سٹینو جو تصویر میں آگئی ہے وہ ساتھ ساتھ شارٹ ہینڈ میں بڑی تیزی سے لکھتی رہی ہے۔گفتگو کے وقت وہ نمائندہ ہی میرے سامنے تھا اور میری ساری توجہ اس کی طرف تھی اور اس کے سوالوں کی طرف تھی جو وہ پہلے تیار کر کے لایا تھا۔چنانچہ جب کا نفرنس ختم ہوگئی تو بعد میں وہ میرے پاس آگیا