خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 876 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 876

خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۱۵ ستمبر ۱۹۶۷ء مجھ سے بات کر رہا ہو میں نے صرف ایک شخص کی آنکھوں پر شوخی دیکھی ساری پریس کا نفرنسز میں جوان ملکوں میں بلائی گئیں اگر ان کے وقت کو جمع کیا جائے، تو مجموعہ قریباً آٹھ گھنٹے بنتا ہے آٹھ گھنٹے کے قریب مختلف ملکوں میں پریس کانفرنسز ہوئیں اور صرف ایک مقام پر ایک شخص کی آنکھوں میں شوخی تھی زبان ادب اور احترام لئے ہوئے تھی بڑے پیار سے اس نے وہ فقرہ کہا مگر اس کی آنکھوں سے مجھے نظر آ رہا تھا کہ شرارت اور شوخی ہے اس نے مجھے پوچھا کہ ہمارے ملک میں آپ نے اب تک کتنے مسلمان بنائے ہیں اور چونکہ تعداد ہماری وہاں اس وقت تک کم ہے اس کی آنکھوں میں یہ شوخی تھی کہ بڑے سال سے تم کام کر رہے ہو اور بڑے تھوڑے احمدی ہیں اللہ تعالیٰ نے مجھے اسی وقت جواب سمجھایا میں نے اسے کہا کہ تمہارے نزدیک مسیح علیہ السلام نے اس دنیا میں جتنی زندگی گزاری ( اور اس مسئلہ میں ہمارا تمہارا اختلاف ہے لیکن میں اس اختلاف میں پڑنا نہیں چاہتا ) بہر حال جتنا تم سمجھتے ہو کہ اتنے برس وہ یہاں رہے اپنی ساری زندگی میں انہوں نے جتنے عیسائی بنائے تھے تمہارے ملک میں اس سے زیادہ احمدی ہیں۔وہ ایسا خاموش ہوا کہ مجھے معلوم ہوا۔۔۔۔میں نے تو اس وقت دراصل اس کی آنکھ کی شوخی کا جواب دیا تھا، ہے تو یہ حقیقت مگر ایسے رنگ میں دیا تھا کہ اس کو سمجھ آگئی کہ یہاں شوخی چلے گی نہیں اور وہ خاموش ہو گیا پھر اس نے سوال کر نے چھوڑ دیئے چالیس پینتالیس منٹ کے بعد میں نے اسے کہا تم مجھ میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے تمہارا جہاں تک تعلق ہے میں تم میں دلچسپی رکھتا ہوں اور سوال کرو میرے کہنے پر اس نے ایک دو اور سوال کئے پھر بعد میں ایک گھنٹہ ہمارے دوستوں سے گفتگو کی ، کتابیں خرید کے لے گیا اور کہا کہ مجھے بڑی دلچسپی پیدا ہوئی ہے میں ان کا مطالعہ کرنا چاہتا ہوں۔تو اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا ان لوگوں پر جو نمائندہ بن کے آئے تھے کہ وہ سارے خطرات جو ہمارے مبلغوں کے دلوں میں تھے ہوا میں اڑ گئے اور ہر شخص نے نہایت ادب اور احترام کے ساتھ اور دوستانہ رنگ میں وہ سوال کئے اور میں نے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ایسے جواب ان کو دیئے کہ ان کی تسلی ہو گئی یہاں تک تصرف الہی تھا کہ مثلاً ٹیلی ویژن میں چھوٹا سا پروگرام ہوتا ہے، ہمارے اس پروگرام میں بھی وہ خود جو چیز سمجھتے تھے کہ اثر انداز ہونے والی ہے اس کا وہ انتخاب