خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 878 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 878

خطبات ناصر جلد اول ALA خطبہ جمعہ ۱۵ ستمبر ۱۹۶۷ء اور باتیں کرتا رہا اس وقت بھی وہ سٹینو اس کے ساتھ تھی اور نوٹ لے رہی تھی آخر میں اس نے سوال کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کا مقصد کیا تھا ؟ ؟ میں نے کہا میں اپنے الفاظ میں تمہیں نہیں بتلاتا۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی کے الفاظ میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ آپ نے کیا دعویٰ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کیوں مبعوث کیا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس لئے مبعوث کیا ہے کہ میں دلائل کے ساتھ اس صلیب کو توڑ دوں جس نے حضرت مسیح علیہ السلام کی ہڈیوں کو تو ڑا اور آپ کے جسم کو زخمی کیا۔وہ یہ جواب سن کر کھڑے کھڑے گویا اچھلنے لگ گیا ،معلوم ہوا کہ اس پر اس جواب کا اتنا اثر ہوا ہے کہ وہ برداشت نہیں کر سکا اور کہنے لگا مجھے حوالہ دکھا ئیں۔یہ ان لوگوں کی عادت ہے کہ اگر کسی اور کی طرف کوئی بات منسوب کی جائے تو اس کا حوالہ دکھانے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔مجھے قطعا علم نہ تھا کہ اس قسم کا کوئی سوال ہوگا اور میرے منہ سے یہ جواب دلوا دیا جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ پتہ تھا میں یہاں سے چند ایک حوالے جو میرے یہاں کام نہیں آئے تھے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔میں نے کہا تھا رکھ لو بھی کام آ جاتے ہیں ان میں یہ حوالہ اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی تھا، یوں ہو گیا تھا جانے سے پہلے۔لیکن میرے ذہن میں پختہ نہیں تھا کہ وہ ہے بھی یا نہیں؟؟؟ میں نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کو کہا مجھے یاد پڑتا ہے کہ ان حوالوں میں یہ حوالہ بھی ہے جا کے سارے حوالے لے آئیں۔جب وہ لائے تو ان میں یہ حوالہ بھی موجود تھا، میں نے اسے دکھایا اس نے کہا کہ میں اسے نقل کرنا چاہتا ہوں میں نے کہا ضرور نقل کرو اس نے وہ نقل کیا اور اگلے دن اس اخبار میں جو ایک لفظ نہیں لکھا کرتا تھا، پورا ایک کالم بلکہ اس سے بھی کچھ سطریں زیادہ اس کا مضمون شائع ہوا۔جس میں ہماری باتیں جو اس سے ہوئیں وہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ حوالہ درج تھا۔دوسرے جو نوٹ شائع ہوئے وہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔لیکن جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا کوئی نوٹ وہ شائع کر دیں تو میری طبیعت میں اس سے بہت بڑی خوشی اور بشاشت پیدا ہوتی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک مرسل کو دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے جو اثر آپ