خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 868
خطبات ناصر جلد اول ۸۶۸ خطبہ جمعہ ۸ ستمبر ۱۹۶۷ء اشاعت کے لئے اور توحید کے قیام کے لئے وہاں پہنچ جائیں جہاں ہماری ضرورت محسوس کی جائے۔یہ ذہنیت ہمیں پیدا کرنی پڑے گی اور ہمیں اس وقت بڑا چوکس بھی رہنا پڑے گا۔کیونکہ جیسا کہ کہا گیا ہے ظلمت کے ساتھ نور کی یہ آخری جنگ ہے اور ظلمت خاموش نہیں رہے گی وہ ہم پر باہر سے بھی حملہ آور ہوگی اور اندر سے بھی ہم پر حملہ آور ہوگی وہ (منافقوں کے ذریعہ ) جماعت کے اتحاد کو پاش پاش کرنے کی کوشش کرے گی۔جور پورٹیں میرے تک پہنچ رہی ہیں ان میں سے بعض اس طرف بھی اشارہ کر رہی ہیں کہ بعض لوگ یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ اب تو کوئی چارہ نہیں رہا یہ کوشش کرنی چاہیے کہ ان کا اتحاد قائم نہ رہے بلکہ جس طرح دوسرے لوگ منتشر ہیں اور پراگندہ ہیں اسی طرح یہ جماعت بھی منتشر اور پراگندہ ہو جائے۔اسلام دوستی تو اس سے ظاہر ہوتی ہے ان کی۔لیکن انہوں نے اپنی نہج پر سوچنا ہے اور ہم نے ان طریقوں پر کام کرنا ہے جو اللہ تعالیٰ ہمیں بتائے۔اس وقت اللہ تعالیٰ کی توفیق سے جماعت نے اتحاد کا اتنا حسین مظاہرہ کیا ہے کہ بہر حال مخالف اس کو پسند نہیں کرتا نہ کر سکتا ہے وہ رخنہ ڈالنے کی کوشش کرے گا اندرونی فتنوں کے ذریعہ سے۔اور جیسا کہ میں نے کہا ہے ظلمت جو ہے وہ بیرونی حملوں کو بھی تیز کرے گی لیکن آسمان سے فرشتوں کا نزول ہو چکا ہے اور عیسائیت دنیا سے ختم ہو چکی ہے عیسائیت اب اس بات کے ماننے پر مجبور ہوگئی ہے کہ اگر ایک شخص کا عقیدہ یہ ہو کہ مسیح خدا نہیں تھا تب بھی وہ عیسائی ہی رہتا ہے۔اگر اُس کا عقیدہ یہ ہے کہ بائیبل الہامی کتاب نہیں تب بھی وہ عیسائی ہی رہتا ہے اگر اس کا عقیدہ یہ ہو کہ حضرت مریم کنواری نہیں تھیں اور مسیح بن باپ نہیں تھے تب بھی وہ عیسائی ہی رہتا ہے اگر جتنے عقائد ہیں عیسائیت کے کوئی شخص ایک ایک کر کے چھوڑتا چلا جائے تب بھی وہ عیسائی رہتا ہے اگر مسیح کو کوئی عیسائی (نعوذ باللہ ) با اخلاق انسان نہ سمجھے تب بھی وہ عیسائی ہی رہتا ہے لیکن صرف یہ فقرہ ابھی منہ سے نہیں نکالتے کہ عیسائیت دنیا میں باقی نہیں رہی اس دنیا میں جس کا میں ذکر کر رہا ہوں یعنی یورپ اور امریکہ میں۔پس آسمان سے فرشتے نازل ہو چکے اور انہوں نے عیسائیت کو ان ملکوں سے مٹا دیا اب