خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 869
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۶۹ خطبہ جمعہ ۸ ستمبر ۱۹۶۷ء ہمارا کام ہے کہ ہم اپنی انتہائی کوشش کر کے خدائے واحد کے جھنڈے ان ملکوں میں گاڑ دیں یہ ہے ہماری ذمہ داری !!! اور اس ذمہ داری کے نباہنے کے لئے جس حد تک ہمیں استطاعت ہواس حد تک تیاری کرنا ہمارا فرض ہے اور ان فرائض کی طرف مختصراً میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں اور خصوصاً دوستوں کو اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ ہم کوئی طاقت اور کوئی استطاعت اور کوئی اثر ورسوخ نہیں رکھتے اور نہ ہمارے پاس وسائل ذرائع اور تدبیر کے مادی سامان اتنے ہیں جتنے وسائل کی آج ہمیں اپنی عقل کے مطابق ضرورت محسوس ہو رہی ہے لیکن ہمارا رب تمام طاقتوں کا منبع اور سرچشمہ ہے۔تمام علوم کے خزانے اس کے پاس ہیں کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے کوئی طاقت اس کے مقابلہ میں ٹھہر نہیں سکتی اگر ہم دعا کے ذریعہ اس کے فضل کو جذب کرنے میں کامیاب ہو جا ئیں تو صرف اسی صورت میں ہم کامیاب ہو سکتے ہیں ورنہ نہیں۔پس بہت دعائیں کرو، بہت دعائیں کریں، دعائیں کرتے ہوئے تھکیں نہ ماندہ نہ ہوں کہ صرف دعا کے ذریعہ سے ہمیں وہ چیز مل سکتی ہے جو آج ہمیں اپنے فرائض پورا کرنے کی توفیق دے سکتی ہے اور اپنے مقصد کے حصول کی توفیق دے سکتی ہے اور ہمیں کامیاب کر سکتی ہے اور اس کے بغیر ہمارا کوئی چارہ ہی نہیں۔پس دعائیں کریں۔دعائیں کریں۔دعا ئیں کریں کہ اللہ تعالیٰ وہ دن جلد لائے کہ آخری فیصلہ جو مقدر ہو چکا ہے آسمانوں پر ظلمت اور نور کے درمیان وہ فیصلہ ہماری زندگیوں میں ہماری آنکھوں کے سامنے نافذ ہو جائے اور ہمیں بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے خدمت کی کچھ تو فیق عطا کرے اور اپنی رضا کے عطر سے ہمارے اندر اس قدر خوشبو پیدا کر دے کہ یہ زمین اور وہ آسمان اس خوشبو سے بھر جائیں اور فرشتے ہم پر درود بھیجنے لگیں۔وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ۔روزنامه الفضل ربوه ۱۱ اکتوبر ۱۹۶۷ ء صفحه ۲ تا ۴)