خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 867
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۶۷ خطبہ جمعہ ۸ ستمبر ۱۹۶۷ء کامیابی عطا کروں گا اور خدا نے جو کہا وہ پورا کیا۔آج اسلام کے مقابلہ میں جھوٹے دلائل ، غلط باتیں، ہر قسم کا افتراء، بودے اعتراضات، نفرت کے جذبات کو ابھارنا، دجل کے تمام طریقوں کو استعمال کرنا، یہ وہ ہتھیار ہیں جو اسلام کے خلاف استعمال کئے جار ہے ہیں۔ان کا آج ہم نے مقابلہ کرنا ہے ان کا مقابلہ تلوار سے یا مادی سامانوں سے نہیں ہو سکتا غلط دلائل کا مقابلہ سچے دلائل سے کیا جا سکتا ہے۔دجل کے اندھیروں کا مقابلہ اللہ کی رضا کے نتیجہ میں جونور حاصل ہوتا ہے اس نور سے کیا جا سکتا ہے تو اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لئے ایثار اور فدائیت کا دعوی کرنا یا عزم کا اظہار زبان سے کرنا یہ کافی نہیں ہے اس کے ساتھ ہی (باستثناء منافقین کہ جن کا ذکر قرآن کریم میں آتا ہے کہ دعوی ہے مگر تیاری نہیں ہے۔ان منافقین کے گروہ کے علاوہ) ساری جماعت کو تیار ہونا پڑے گا ہر قسم کی قربانیاں دینے کے لئے اور ہم جو ذمہ دار ہیں ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم جماعت کو تیار کریں۔یہ ایک عظیم موقع اشاعت اسلام اور دین حق کے غلبہ کا اللہ تعالیٰ نے آسمانی فیصلوں کے ذریعہ اور فرشتوں کے نزول کے ساتھ پیدا کر دیا ہے۔ہمارے سامنے میدان خالی پڑا ہے ہم نے آگے بڑھنا ہے دلائل کے ہتھیار لے کر۔ہم نے آگے بڑھنا ہے نور کی شمعیں ہاتھ میں لئے ہوئے۔ہم نے آگے بڑھنا ہے توحید خالص کی جو کر نہیں جسموں سے پھوٹتی ہیں جب تو حید خالص ایک دل میں قائم ہو جاتی ہے ان کرنوں کے سہارے اور اس کے لئے ہمیں خود کو اور جماعت کو تیار کرنا ہے۔اس کی تیاری کے لئے تفصیلی منصوبہ تو انشاء اللہ تعالیٰ اور اس کی توفیق سے میں اپنے وقت پر بیان کروں گا (ممکن ہے کئی خطبات دینے پڑیں) لیکن اصولاً میں اس وقت یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کو اپنی عادتیں بدلنی پڑیں گی آپ کو بہت سی بدعات جو آہستہ آہستہ ہم میں نفوذ کر گئی ہیں ان کو چھوڑنا پڑے گا آپ کو ذہنی طور پر اس بات کے لئے تیار ہونا پڑے گا کہ اگر اسلام کی ضرورت ہمیں پکارے کہ اپنا سب کچھ چھوڑ دو ادھر آؤ اور اس ضرورت کو پورا کرو تو جس طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اسلام کی آوازسُن کر سب کچھ چھوڑ کر میدان جہاد کی راہ لی تھی اسی طرح ہم بھی اس آواز پر اپنا سب کچھ چھوڑ کر اسلام کی خاطر اور اسلام کی