خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 823
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۲۳ خطبه جمعه ۲۵ اگست ۱۹۶۷ء ہے مسجد میں داخل ہوئے ہیں۔چہرے سے معلوم ہوتا ہے کہ وضو کرتے ہی سیدھے چلے آرہے ہیں اور دیوار کے ساتھ ساتھ پہلی صف کی طرف خراماں خراماں چل رہے ہیں ( پہلی صف میں اس وقت صرف دو تین آدمی ہیں ) میرے سامنے ان کے چہرہ کا بایاں حصہ آیا ہے اور عجیب بشاشت اور مسکراہٹ ان کے چہرہ پر پھیل رہی ہے اور اس کو دیکھ کر میرے دل میں بھی عجیب سرور پیدا ہوا میرے پیچھے ایک شخص کھڑا ہے جس کا نام بشیر ہے۔لیکن میں نے اسے نہیں دیکھا۔میں نے یہ خواب اس وقت کسی کو بتائی نہیں تھی لیکن اس روز مبلغین کی کانفرنس تھی شام کو چار بجے کے قریب تبادلہ خیالات اور رپورٹوں کے بعد بعض تجاویز زیر غور آئیں۔آخر میں میں نے کچھ نصائح کرنی تھیں۔اس وقت میں نے انہیں بتایا کہ آج صبح میرے ساتھ اللہ تعالیٰ نے پیار کا یہ سلوک کیا ہے اور سرور کی یہ روحانی کیفیت میرے اندر اب بھی موجود ہے اس پر چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کہنے لگے کہ میں نے اور بشیر احمد صاحب آرچرڈ نے گیارہ بجے یہ باتیں کی تھیں کہ کوئی بات ضرور ہے حضور وہ نہیں جو روز ہوا کرتے تھے۔تو گویا اس وقت وہ بھی ایک روحانی کیفیت محسوس کر رہے تھے اور میں اس وقت بھی سرور محسوس کر رہا تھا۔گیارہ بجے کے قریب پندرہ منٹ کے لئے ہم نے کا نفرنس کو بند کر دیا تھا کہ مبلغین ایک ایک پیالی چائے پی لیں کیونکہ وہاں لوگوں کو اس وقت ایک پیالی چائے پینے کی عادت ہے اور بشیر احمد آرچرڈ انگریز ہیں اور سکاٹ لینڈ میں ہمارے مبلغ ہیں۔پس رحمن کی رحمانیت نے ایک بشارت دی اور کوپن ہیگن میں ہم نے اللہ تعالیٰ کے فضل کے پیارے نظارے دیکھے اور لوگوں میں اس قدر رجوع تھا کہ وہاں بڑی تعداد میں آرہے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ ان لوگوں کو کچھ پتہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور فرشتے انکو دھکے دے کر لا رہے ہیں مثلا عیسائی بچے جو دس سال اور پندرہ سولہ سال کے درمیان عمر کے تھے مسجد میں آجاتے تھے اور ہمارے ساتھ نماز میں شریک ہوتے تھے۔ان کی تعداد کو ئی چالیس پچاس ہوگی جو مختلف وقتوں میں آئے۔پھر وہ بچے صرف فرائض میں ہی شامل نہیں ہوتے تھے کہ ہم سمجھیں کہ وہ مجو بہ سمجھ کر ایسا کرتے تھے بلکہ مغرب و عشاء کی نمازیں جمع ہوتیں تھیں اور بعد میں ہم وتر ادا کرتے تھے تو دس دس بارہ بارہ سال کی بعض لڑکیاں ہماری احمدی مستورات کے ساتھ وتر بھی