خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 824 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 824

خطبات ناصر جلد اول ۸۲۴ خطبه جمعه ۲۵ را گست ۱۹۶۷ء پڑھ کے جایا کرتی تھیں ایک دن ہم میں سے کسی نے انہیں کہا کہ تمہارے ماں باپ کو پتہ لگ گیا تو وہ تمہیں ماریں گے تو وہ کہنے لگیں نہیں ، ان کو پتہ ہے کہ ہم یہاں آتی ہیں۔غرض صبح سے لے کر شام تک ایک تانتا سا بندھا رہتا تھا۔لوگ آرہے ہیں مسجد دیکھنے کے لئے اور واپس جارہے ہیں ایک دن چوہدری محمد علی صاحب کی آنکھ رات کے ڈیڑھ بجے کھلی اور وہ اپنے کمرہ سے باہر نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد کی تصویر لے رہا ہے۔رات کے ڈیڑھ بجے وہ مسجد کی تصویر لے رہا تھا۔پھر آج کل ڈنمارک میں باہر کے سیاح بہت بڑی تعداد میں آئے ہوئے تھے یہی موسم ہے سیر کا۔وہاں سال میں صرف ایک دو ماہ ایسے ہوتے ہیں جن میں لوگ سیاحت کے لئے نکلتے ہیں۔پھر موسم خراب ہو جاتا ہے۔جھکڑ اور سرد ہوائیں چلتی ہیں۔سیر و سیاحت کے ان مہینوں میں وہاں بعض کا رخانے بند ہو جاتے ہیں۔یہ نہیں ہوتا کہ بعض کو چھٹی دے دی اور بعض کو نہ دی بلکہ کچھ عرصہ کے لئے کارخانہ ہی بند کر دیا جاتا ہے اور ملازموں سے کہا جاتا ہے کہ جاؤ سیر کرو ہماری طرف سے تمہیں چھٹی ہے اور چونکہ ان ملکوں میں سیر و سیاحت کا زمانہ زیادہ لمبا نہیں ہوتا اس لئے لوگ ان دنوں میں بڑی کثرت سے سیر و سیاحت کے لئے باہر نکلتے ہیں۔غرض جولوگ سیاحت کی غرض سے وہاں آئے ہوئے تھے وہ بھی بڑی کثرت سے مسجد دیکھنے آئے ہمارا جو مشن ہاؤس ہے۔یعنی مبلغ کے رہنے کا جو گھر ہے اس کے دروازے اور مسجد کے دروازے میں تیں چالیس فٹ کا فاصلہ ہے۔وہاں دراصل ایک میٹنگ روم بنانے کے لئے نقشہ دیا گیا ہے لیکن ابھی اس پر چھت ڈالنے کے لئے کارپوریشن کی طرف سے اجازت نہیں ملی۔اس وقت وہ جگہ ایک صحن کی شکل میں ہے۔جمعہ کے روز افتتاح کے وقت لوگ اتنی کثرت سے آئے کہ جب میں گھر سے باہر نکلا تو میں نے دیکھا کہ لوگ کثرت سے آئے ہوئے ہیں اور کندھا سے کندھا ملا ہوا ہے اور میں مسجد کے دروازہ تک نہیں پہنچ سکتا بعد میں تین چار رضا کار آئے۔انہوں نے بڑی مشکل سے رستہ بنایا تب میں مسجد میں پہنچا۔آنے والوں میں بڑے بڑے لوگ بھی تھے جن کی طرف اس وقت ہماری توجہ بھی نہ ہوئی۔خود ہی وہ افتتاح کی تقریب میں شامل ہوئے اور پھر واپس چلے گئے۔ان لوگوں میں ہمارے علاقہ کا لارڈ میئر بھی تھا جو بڑا شریف انسان ہے اور جماعت کے