خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 822
خطبات ناصر جلد اوّل ۸۲۲ خطبہ جمعہ ۲۵ /اگست ۱۹۶۷ء نے ہی سکھلائی تھی۔میں خوش بھی ہوا لیکن مجھے حیرت بھی ہوئی کہ بعض دفعہ کیا کیا تعبیریں نکل آتیں ہیں۔اگر میرے ذہن پر چھوڑا جاتا یا آپ میں سے کوئی ماہر تعبیر بتانے والا بھی ہوتا تو اس کی وہ تعبیر نہ کرتا جو اس وقت میرے ذہن میں آئی اور ابھی اس خواب کو دیکھے چار پانچ گھنٹے ہی ہوئے تھے کہ وہ پوری ہو گئی چونکہ طبیعت پر اثر تھا کہ یہ خواب جلد پوری ہونے والی ہے اس لئے جس وقت منصورہ بیگم کی آنکھ کھلی میں نے انہیں بتا دیا کہ میری زبان پر یہ آیت جاری ہوئی ہے اور مجھے اس کی یہ تعبیر بتائی گئی ہے اس کو یا درکھ لو۔پھر چار پانچ گھنٹوں کے بعد ہمیں پتہ لگ گیا کہ اس تعبیر کے لحاظ سے وہ خواب پوری ہو گئی جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مجھے دلی اطمینان کے لئے اس کی ضرورت ہے۔باقی ایمان تو مجھے ہے۔اسی طرح ہمیں ایمان تو تھا لیکن دلی اطمینان کے لئے اللہ تعالیٰ نے دوسرے ہی روز ایک ایسی بات بتادی کہ جو چند گھنٹوں میں پوری ہونے والی تھی اور شاید اس وقت دنیا کے اس حصہ میں پوری ہو رہی تھی جس کے متعلق وہ خبر دی گئی تھی۔اسی طرح وہ میرے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی تقویت ایمان اور تسکین قلب کا موجب ہوئی۔وہ خواب کیا تھی اور وہ تعبیر کیا تھی جو مجھے بتائی گئی۔وہ ایک خاص مصلحت کے ماتحت میں اس وقت نہیں بتا رہا۔ویسے وہاں بھی اور یہاں بھی میں نے بعض دوستوں کو وہ خواب اور تعبیر بتادی ہے۔اسی طرح کو پن ہیگن میں صبح کی نماز سے پہلے جاگتے ہوئے ( گو آنکھیں میری بند تھیں ) میں نے ایک نظارہ دیکھا۔وہ نظارہ اپنی ذات میں غیر معمولی نہیں لیکن اس کا جواثر تھا وہ بڑا عجیب اور غیر معمولی تھا کہ دل و دماغ اور جسم کی روئیں روئیں سے سرور اور حمد کے چشمے پھوٹنے لگ گئے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو دیکھ کر جو کیفیت ایک مومن کی ہوتی ہے ( وہ عجیب رنگ میں کچھ جذباتی بھی ہوتی ہے اور کچھ مجذوبانہ بھی۔وہاں عقل کو کوئی دخل نہیں ہوتا محبت اور پیار کو دخل ہوتا ہے ) پیدا ہوگئی۔نظارہ تو میں نے صرف یہ دیکھا کہ میں ایک مسجد میں ہوں اور محراب میں تین صفیں پیچھے کھڑا ہوں یعنی تیسری صف میں اور گویا میں انتظار کر رہا ہوں کہ نمازی آئیں تو میں نماز پڑھاؤں۔میں نے دیکھا کہ دائیں طرف سے دیوار کیساتھ ساتھ ایک دوست جن کا نام عبدالرحمن